حیاتِ خالد — Page 732
حیات خالد 721 گلدستہ سیرت بھی اپنے والد محترم کے قدم بہ قدم چلیں اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت کرنے والے ہوں“۔محترم مولانا محمد اسماعیل منیر صاحب سابق ایڈیشنل ناظر اصلاح دار شاد ( تعلیم القرآن و وقف عارضی ) لکھتے ہیں :- ”میرے استاد حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی تقریر کا یہ عالم تھا کہ جلسہ سالانہ پر ان کی تقریر کا وقت آتا تو باہر گھومنے پھرنے والے بھی پنڈال میں آ جاتے۔آپ سوز اور درد سے بھری ہوئی مگر پر شوکت آواز میں اپنے مضمون کو خوب نبھاتے اور ہر خاص و عام کی یکساں دلچسپی کا باعث بنتے۔وقت کی پابندی خوب کرتے اور کرواتے۔مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دفعہ کسی اہم مضمون کے لئے انہیں صرف پانچ منٹ دیئے گئے اور انہوں نے تمہید کے بعد دلائل بھی دیئے اور پانچ منٹ ختم ہونے کے ساتھ خود ہی مضمون مکمل کر کے بیٹھ گئے۔یہ ان کی قادر الکلامی کی دلیل تھی۔محترم مولانا صوفی محمد اسحاق صاحب لکھتے ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل جالندھری سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ممتاز اور جید ترین علماء میں سے ایک تھے۔آپ ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے مقرر ، مصنف اور بہت ہی کا میاب احمدی مناظر تھے۔خاکسار مدرسہ احمدیہ قادیان کی آخری کلاسوں کا طالب علم تھا کہ آپ کئی سال تک بلا دعر بیہ میں دعوۃ الی اللہ کا فریضہ بجالانے کے بعد واپس قادیان تشریف لائے تو ایک دفعہ حضرت میر محمد الحق صاحب فاضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ نے کچھ غیر از جماعت معزز مسلمانوں کو بورڈنگ ہاؤس مدرسہ احمدیہ کے ہال میں مدعو کیا اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو انہیں خطاب کرنے کی دعوت دی اور میں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ آپ نہایت ہی شائستہ و مہذب طریق سے ایک بے حد پر کشش اور دل نشین پیرایہ میں ان حضرات کو خطاب کر رہے تھے۔بعد ازاں ان کی تقاریر جلسہ سالانہ اور دیگر کئی مواقع پر سنیں جو نہایت ہی عالمانہ اور موثر دلائل سے پر ہوتیں۔آپ کی تقریر میں روانی بلا کی ہوتی تھی اور یوں لگتا تھا کہ گویا آپ کے دہن شیرمیں سے پھول جھڑ رہے ہیں۔مکرم عبدالعزیز صاحب بھٹی سابق با غبان فارمز سندھ الفردوس فارم تحصیل کا موسکے ضلع گوجرانوالہ حال ربوہ لکھتے ہیں:۔وو جب جلسہ سالانہ کے اسٹیج سے تقریر شروع فرماتے تو جس طرح ریل اسٹیشن سے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی نکلتی ہے اور پھر تیز ہو کر فراٹے بھرنے لگتی ہے اسی طرح آپ کی تقریر تھی۔شروع میں الفاظ