حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 731 of 923

حیاتِ خالد — Page 731

حیات خالد 720 گلدسته سیرت عادی تھے اور اپنے مفہوم کو الگ الگ جملوں میں مختلف طور پر بیان کرتے تھے اس لئے بات اتنی واضح ہو جاتی کہ اگر کوئی کوشش کرتا تو آپ کے منہ سے نکلے ہوئے فقرات کو گن بھی سکتا تھا اس لئے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے تقریر میں ایک بات بیان کی اور وہ سامعین کی سمجھ میں نہ آئی ہو۔مولا نا محمد ابراہیم صاحب بھا مڑی تعلیم الاسلام ہائی سکول میں سالہا سال استادر ہے، وو عرصہ قریبا نصف صدی سے محلہ دار النصر غربی ربوہ کے صدرمحلہ ہیں، آپ لکھتے ہیں :- حضرت مولا نا میدان تقریر اور تحریر کے شہسوار تھے۔آپ کی تقریر میں خوب روانی ہوتی تھی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ فقرات خود بخو د نازل ہو رہے ہیں۔بڑے مہذبانہ انداز میں کلام کرتے اور ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے۔تقریر اور تحریر عام فہم ہوتی۔مشکل پسند نہ تھے۔حضرت مولانا فی البدیہہ ہر مضمون پر تقریر کرنے کے ماہر تھے۔چنانچہ ۱۹۴۹ء کی بات ہے کہ چنیوٹ کی جماعت نے آپ کو پاکستان کی خدمت اور پاکستانیوں کی ذمہ داریوں کے مضمون پر تقریر کرنے کے لئے دعوت دی۔آپ نے چنیوٹ کی ٹاؤن کمیٹی کے احاطہ میں وہاں کے شہریوں کے مجمع میں نہایت موثر رنگ میں تقریر کی جو سب سامعین نے بہت پسند کی۔مکرم شیخ خادم حسین صاحب مرحوم سابق استاد جامعہ احمد یہ جو ایک عرصہ تک ایران میں بھی رہے ، لکھتے ہیں :- تقریر کے معاملے میں حضرت مولانا وقت کے بڑے پابند تھے اور وہ خوبی جو اکثر مقررین میں بہت کم پائی جاتی ہے کہ وقت مقررہ میں اپنی تقریر ختم کر دیں آپ میں بدرجہ کمال موجود تھی۔حضرت مولانا اس بارے میں بے حد محتاط تھے کہ وقت مقررہ سے زائد صرف نہ ہو۔اگر کبھی پانچ منٹ بھی آپ کو تقریر کے لئے ملے تو انہوں نے اپنی تقریر وقت مقررہ سے آدھا منٹ پہلے ہی ختم کر دی۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس ملکہ کے ساتھ ساتھ قلب صافی اور روشن ذہن ایسا عطافرمایا تھا کہ کسی خلا کو باقی نہ رہنے دیتے۔ایک خطبہ مجھے یادر ہے گا۔ایک مرتبہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث اسلام آباد میں مقیم تھے تو ان کی غیر حاضری میں آپ نے خطبہ دیا۔حضرت مولانا نے وہ خطبہ ایسے جذبہ سے اور ایسے حسین اور موثر رنگ میں دیا کہ میرا دل محسوس کرتا تھا کہ آپ کی زبان سے روح القدس بول رہا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت مولانا کو اپنی بے شمار نعمتوں اور رحمتوں سے نوازے اور جنت الفردوس میں اپنے مقربین کے نزدیک جگہ دے اور آپ کی نیکیاں اور خوبیاں آپ کے فرزندان گرامی میں بھی منعکس فرمادے تا کہ وہ