حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 733 of 923

حیاتِ خالد — Page 733

حیات خالد 722 گلدستۂ سیرت آہستہ آہستہ اور مظہر ٹھہر کر ادا کرتے اس کے بعد الفاظ اور خیالات کی روانی ایسی آتی جیسے کوئی سبک خرام ریل بغیر رکے چلتی جارہی ہو“۔محترم مولانا محمد صدیق صاحب گورداسپوری لکھتے ہیں :- آپ ایک طلیق اللسان مقرر ، اعلیٰ درجہ کے مناظر، جید اور قابل مصنف، عالم بے بدل اور فاضل اجل تھے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی فراست اور ذہانت سے نوازا تھا۔اور آپ کا طرز بیان ایسا اچھوتا ہوتا تھا کہ مشکل سے مشکل مسئلہ کو بھی آسان پیرائے میں بیان فرما کر حاضرین کی تسلی و تشفی کر دیتے تھے۔چنانچہ آپ نے ان خدا داد صلاحتیوں اور استعدادوں سے کام لے کر خدمت دین کے میدان کے ایک کامیاب جرنیل کی حیثیت سے نصف صدی سے زائد عرصہ خدمات دینیہ انجام دیں۔نومبر ۱۹۴۹ء کی بات ہے۔سرگودھا کے کمپنی باغ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک پبلک جلسہ کا انتظام کیا گیا جس میں شرکت فرمانے اور خطاب کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی تشریف لے گئے۔ربوہ سے کثیر تعداد میں احباب جماعت بھی وہاں گئے اور جامعتہ المبشرین کے طلباء بھی شریک ہوئے۔جلسہ گاہ لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ایک جم غفیر تھا جو وہاں اکٹھا ہو گیا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی مکرم صاحب خان نون صاحب کے گھر تشریف لے گئے اور آپ کو وہاں پر کچھ دیر ہو گئی۔حضور نے محسوس کیا کہ لوگ انتظار کرتے کرتے اکتا نہ جائیں لہذا پیغام بھیجا کہ مولوی ابوالعطاء صاحب کو کہیں کہ تقریر شروع کر دیں اور میرے آنے تک تقریر جاری رکھیں۔حضرت مولا نا حکم ملتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور تقریر شروع کر دی۔محترم ثاقب زیروی صاحب کے بقول جیسے گراموفون پر کوئی بڑی محنت اور عرق ریزی سے تیار کیا ہوا ریکارڈ لگا دیا جائے۔کوئی تیاری نہیں تھی، کوئی موضوع نہیں تھا، اندازہ بھی نہیں تھا کہ آپ کو تقریر کرنی ہوگی۔کسی قسم کے نوٹس یا حوالوں یا کتابوں کا تو ذکر ہی کیا۔معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ٹیوب ویل کانل اچانک کھول دیا گیا ہو جس سے دھاروں دھار پانی پوری قوت سے بہنے لگا ہو اور چشم زدن میں وسیع و عریض جلسہ گاہ جل تھل ہو گئی ہو۔اس خالد احمدیت نے ایسے برجستہ اور ا چھوتے انداز میں دین حق اور صلى الله سيرة حضرت نبی کریم ﷺ پر روشنی ڈالی کہ پنڈال پر مکمل سکوت طاری ہو گیا۔حاضرین ہمہ تن گوش ہو کر مولانا کے نکات معرفت سے مستفیض ہونے لگے اور حضور کی آمد تک یہ مدلل اور پر مغز تقریر جاری رہی۔