حیاتِ خالد — Page 684
حیات خالد 673 گلدستۂ سیرت لڑکا ہو خواہ لڑکی۔بچوں کو تجارت نہیں کرنے دیتے تھے بس یہی کہتے تھے دین کی خدمت کرو اور دینی کاموں میں حصہ لو، اسی میں برکت ہے۔ساری عمر کا تجربہ یہی بتاتے کہ مجھے تو اسی میں ہی فائدہ نظر آتا ہے۔تم بھی اس بات پر عمل کرو۔جب پارٹیشن کے بعد ہم احمد نگر آئے تو سب لوگوں نے زمینیں الاٹ کروا ئیں۔مولوی صاحب سے پوچھا گیا تو آپ نے صاف انکار کر دیا کہ نہ میری وہاں زمین تھی اور نہ ہی میں نے یہاں الاٹ کروانی ہے۔دوسرے ہندوؤں کا کوئی برتن نہیں لیا نہ کوئی اور چیز لی۔ان چیزوں سے سخت نفرت تھی۔ہندوؤں کا سامان تقسیم کرنے والوں کو منع کرتے تھے کہ ہمارے گھر میں ہندوؤں کی کوئی چیز نہ بھیجنا۔مٹی کے برتنوں میں کچھ عرصہ کھاتے رہے۔ایک واقعہ بتاتے تھے کہ سفر میں تھے ایک اسٹیشن پر کھڑے تھے تو پیاس لگی۔پانی پینے گئے۔ایک جگہ مٹکا پانی کا تھا اور گلاس بھی پاس ہی تھا۔گرمی کا موسم تھا۔آپ نے گلاس بھر کر پانی تھوڑا ہی ابھی پیا تھا کہ اندر سے ایک ہند ولالہ موٹا سا دھوتی باندھے نکلا اور اُس نے شور مچادیا کہ دو مسلے تو نے ہمارا پانی بھرشٹ کر دیا ہے تو مولوی صاحب نے یہ بات سنتے ہی گلاس پانی سمیت دور غصے سے پھینک دیا اور شور مچادیا کہ ظلم ہو گیا لوگو! انہوں نے کیسی غلطی کی ہے کہ ہندو پانی کا بور ڈ نہیں لگایا اور میں نے غلطی سے پانی پی لیا ہے۔اب میں کیا کروں۔میں پاک صاف مسلمان نمازی اور میں سارا پلید ہو گیا ہوں۔ان کو تو صرف مٹکا لینا پڑے گا اور گلاس اور لینا پڑے گا۔اب مجھے بتاؤ میں کیا کروں۔یہ شور سن کر سب لوگ اکٹھے ہو گئے اور اس ہند و کو ملامت کرنے لگ گئے کہ تم نے بڑی غلطی کی ہے۔اس مسلمان کو کتنی تکلیف ہوئی ہے۔آپ کثرت سے مناظروں اور مباحثوں پر جایا کرتے تھے اور دشمن کئی طرح سے وار بھی کرتے تھے۔ایک دفعہ تقریر کر رہے تھے کہ سٹیج پر کسی دشمن نے سانپ چھوڑ دیا مگر مولوی صاحب ڈرانہ گھبرائے جھٹ میز کے اوپر کھڑے ہو کر تقریر کرتے رہے اور پاس کے دوستوں نے سانپ ماردیا اور گڑبڑ نہ ہونے دی۔ایک دفعہ تقریر کر رہے تھے کہ ایک دشمن نے بھر پور لاٹھی سر پر مارنی چاہی مگر پاس ہی سید بشیر شاہ صاحب پھنگلے والے کے والد صاحب نے وار اپنے سر پر لیا۔ان کو کافی گہرا زخم آیا تھا۔اس وجہ سے مولوی صاحب اُن کی بہت قدر کرتے تھے۔اب وہ فوت ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند