حیاتِ خالد — Page 683
حیات خالد 672 گلدستۂ سیرت خواہش زندگی میں پوری کر دی۔الحمد للہ۔گھر میں بہت سادگی سے رہتے تھے۔تکلف ذرا نہیں تھا۔بچوں سے بہت پیار تھا۔کبھی کسی سے سختی سے نہ ہوئے تھے۔سب کو خوش رکھتے تھے۔کھانے میں کبھی نقص نہ نکالتے۔اگر کچھ خرابی ہوتی بھی تو پکانے والے کو خوش کر دیتے اور اُس کی حوصلہ افزائی کرتے۔ہمیشہ خوشی سے کھانا کھاتے اور تعریف ہی کرتے جاتے تھے بلکہ پکانے والے کو محسوس ہوتا کہ خواہ مخواہ اتنی تعریف کرتے ہیں۔آپ اپنی بہنوں بیٹیوں کے گھر میں کبھی خالی ہاتھ نہ جاتے تھے۔اکثر کی شادیاں جلدی جلدی کر دیں تھیں اور کسی سے کچھ لینے کے خواہش مند نہ تھے۔کسی سے ایک پیسہ تک نہیں لیا تھا بلکہ سب کو دیتے ہی رہتے تھے۔ایک دفعہ کراچی میں ایکسیڈنٹ ہوا اور چھ پسلیاں ٹوٹ گئیں اور بہت دیر تک صاحب فراش رہے۔ایک دن کہنے لگے اُس وقت چار بچیاں چھوٹی تھیں کہ کیوں نہ میں چاروں بھائیوں کو چاروں بیٹیوں کی ذمہ داری سونپ دوں۔میں نے کہا کہ آپ کیوں مایوس ہو گئے ہیں آپ اپنی بیٹیوں کو خود ہی سنبھالیں اور خود ہی سارے فرائض ادا کریں۔آپ دعا کریں اللہ تعالٰی آپ کی عمر بڑھا بھی سکتا ہے۔چنانچہ کچھ دنوں کے بعد کہنے لگے کہ میں نے اپنے اللہ سے دعا کی تھی تو اللہ نے میری عمر دین اسال بڑھا دی ہے۔بہت خوش ہوئے اور جلدی جلدی شادیاں کر دیں ایک دن میں بھی دو کیں اور ایک سال میں بھی دو کیں۔سال دو سال کے وقفہ سے بھی کرتے رہے۔شادیوں میں نمائش بالکل نہیں کی نہ ہی جہیز دکھایا نہ ہی بری دکھائی نہ ہی مہندی کی رسم کی گئی اور نہ ہی شور شرابہ زیادہ گانا بجانا کرنے دیا اور زیادہ تر خریداری بھی ربوہ سے ہی کی گئی کہ ربوہ کے دکانداروں کو ہی فائدہ ہو۔جو چیز ربوہ سے مل سکتی وہ یہیں سے خریدتے تھے۔اسی طرح جب قادیان جاتے تو درویشوں سے ہی سب چیزیں خرید کر لاتے تھے۔کپڑے وہیں سے سلو الاتے تھے اور پھل وغیرہ بھی اسی جذبہ سے وہاں سے ہی خرید تے تھے۔رمضان میں جب اعتکاف بیٹھتے تو عید سے دو چار دن پہلے ہی اپنی بہنوں اور بیٹیوں اور بھائیوں کو پانچ روپے فی کس کے حساب سے سب کو منی آرڈر کر دیتے تھے۔اپنی زندگی کے آخری سال عید پڑھ کر آئے تو بتایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ اپنے ارد گرد کے ہمسایوں کے بچوں کو بھی عیدی دوں چنانچہ میں سب کو عیدی دے آیا ہوں۔خواہ کسی حال میں ہوتے بچوں کے عقیقے ضرور کرتے۔سب بچوں کے عقیقے کیے ہیں اور عید الاضحی پر قربانی بھی ضرور کرتے تھے۔اور بچوں کی پیدائش پر مٹھائی ضرور بانٹتے خواہ