حیاتِ خالد — Page 685
حیات خالد 674 گلدستۂ سیرت فرمائے۔آمین۔اسی طرح دشمنوں نے بہت دفعہ وار کئے مگر خدا نے ان کو ہر بار بچایا۔ایک بار خواب میں مولانا در وصاحب ملے تو ان سے پوچھا کہ آپ کیسے ہیں تو کہنے لگے کہ خدا نے ہمیں بہت ہی اجر عطا کیا ہے جس کی ہمیں امید ہی نہ تھی۔اس کے مقابل پر ہم نے تو کچھ بھی کام نہیں کیا تھا جو خدا نے ہمیں بدلہ دیا ہے۔اب دل چاہتا ہے کہ کاش ہم اس سے بھی زیادہ کرتے تو ٹھیک تھا۔میرے رشتہ داروں سے بھی بہت ہی اچھا سلوک کرتے تھے باوجود اس کے کہ میں نے کبھی نہیں کہا تھا۔صلہ رحمی کا بہت خیال رکھتے تھے۔بڑی محبت اور پیار کا سلوک کرتے تھے۔میرے ماں باپ بہن بھائیوں کی بڑی عزت کرتے تھے۔اس کے علاوہ اپنے ہمسائیوں کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔عید کے دن جب جاتے تو ٹانگے والے عیدی مانگتے تھے اور جلسہ پر جاتے تو بھی جلسہ مانگتے آپ بڑے خوش ہو کر ان کو دیتے تھے آپ سفر پر جاتے یا گھر سے کوئی جاتا سب کو اکٹھا کر کے دعا کرواتے تھے پھر رخصت کرتے تھے۔مولوی صاحب سے اکثر لوگ اپنی خوابوں کی تعبیریں پوچھتے رہتے تھے۔وہ پوری خواب سن کر تعبیر اُسی وقت بتادیتے تھے یا ایک دن سوچنے کے بعد بتاتے تھے۔بہت صحیح تعبیر بتاتے تھے۔اسی طرح لوگ استخارہ کے لئے بھی کہتے تھے اور دعا کرنے کے بعد مشورہ دیتے تھے۔اپنے سب بچوں کی شادیوں کی تجویز بھی استخارہ کے بعد کرتے تھے۔سب سے بڑی بات یہ تھی کہ کوئی رشتہ آتا تھا تو فورا انکار نہیں کرتے تھے تا کہ اُن کا دل بُرا نہ ہو اور کہتے کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگوں گا پھر فیصلہ کروں گا۔اگر اللہ کا منشاء ہوگا تو بتاؤں گا۔اگر کوئی دنیا داری کی بات کرتا کہ ہمارا بہت بڑا کاروبار ہے، رزق کی فراخی ہے تو آپ صاف انکار کر دیتے کہ مجھے دنیا نہیں چاہئے میں تو دین داری چاہتا ہوں۔اور واقعی کسی کی آمد نہیں پوچھی اور نہ ہی گھر دیکھا۔اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے سب رشتے کیے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ سب بچوں کو خدا نے دین و دنیا کی نعمتیں عطا کیں ہیں۔اور سب بیٹے بیٹیاں دین کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔سب نے وصیتیں بھی کی ہوئیں ہیں۔دعا ہے کہ خدا ان کو تا قیامت احمدیت کے ساتھ وابستہ رکھے اور تا زندگی وہ سلسلہ احمدیہ کی خدمت کرتے رہیں۔اور ان کی اولادیں بھی خادم سلسلہ رہیں۔اللہ اُن کو مولوی صاحب کے نقش قدم پر چلائے۔آمین۔۱۹۷۴ء کے ایک اہم واقعہ کا، اور قبولیت دعا کا ذکر یہاں کرتی ہوں۔اس وقت مخالفت زوروں پر تھی۔ایک روز دوپہر کے وقت سرگودھا سے ایک بھائی ( عطاء المنان ) مع فیملی ربوہ میں