حیاتِ خالد — Page 615
حیات خالد 610 آخری ایام بچیوں سے کہا کہ جاؤ بڑے ابا جان سے سلام کر آؤ۔وہ اندر گئیں اور گھبرائی ہوئی واپس آ گئیں کہ بڑے ابا جان کو تو خون آ رہا ہے۔میں نے سوچا کھانسی کے ساتھ شاید تھوڑا سا آ گیا ہو۔اندر گئی تو جو دیکھا بیان نہیں کر سکتی۔کھانسی کے ساتھ خون کے کی طرح آرہا تھا۔خالہ جان اور میں نے مل کر سنبھالا۔گرم پانی کر کے منہ وغیرہ صاف کیا۔میں گھبرا گئی تو کہنے لگے گھبراؤ نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔دونوں کو تسلیاں دیتے رہے۔میں نے کہا کہ فون کر کے ڈاکٹر صاحب کو بلوا لیتے ہیں۔کہنے لگے فون خراب ہے۔میں نے کہا کہ آپا جان (صفیہ صدیقہ اہلیہ مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب۔ناقل ) کی طرف جا کر فون کر آؤں۔کہنے لگے سب خراب ہیں۔خیر خون کا۔اتنے میں لالہ ( حضرت مولا نا مرحوم کی بیٹی۔ناقل ) بھی آ گئی۔اس کے ساتھ مل کر میں نے کپڑے دُھلائے۔دو تو لیئے ، چادر اور اس کے علاوہ بہت سے کپڑے خون سے کر ہو گئے تھے۔کچھ دیر بعد غنودگی سی ہو گئی اور عجیب سا محسوس ہوا تو میں فوراً آپا جان کی طرف بھاگی کہ کسی بچے کو ہی ڈاکٹر کی طرف بھیجوں۔وہاں گئی تو خوش قسمتی سے چند گھنٹے پہلے فون ٹھیک ہوا تھا ( عجیب بات ہے کہ اس وقت فون ٹھیک ہوا اور اگلے دن صبح جب وفات کی سب اطلاعات دی جا چکیں تو پھر خراب ہو گیا ) فون کرنے پر فورا ہی ڈاکٹر لطیف صاحب اور لطفی بھائی آگئے۔آکر معائنہ کیا۔ٹیکے لگائے اور کہنے لگے کہ آج کے ایکسرے میں ایک پھیپھڑے پر نمونیہ کا اثر معلوم ہوا ہے۔بہت تسلی دی کہ بعض دفعہ خون آجاتا ہے۔کوئی فکر کی بات نہیں۔نیز بتایا کہ دو دن تھوڑا تھوڑا اور آئے گا۔پھر ٹھیک ہو جائے گا۔یہ خون تھا بھی سیاہی مائل۔اس کے بعد خالو جان کی طبیعت پہلے سے بہتر ہو گئی اور کہنے لگے جیسے سینہ سے بوجھ اتر گیا ہے اور طبیعت ہلکی ہے۔پونے چار بجے پھر خون آیا جو تھوڑا تھا اور سیاہی مائل۔اس سے کچھ تسلی ہو گئی۔شام چھ بجے پھر خون آیا اور اگر چہ تھوڑا تھا مگر تھائر فی مائل۔شام آندھی آنے لگی تو ہم نے انہیں اُٹھنے نہ دیا اور چار پائی اُٹھا کر برآمدہ میں کر دی اور رات اندر چلے گئے۔منیر (احمد غیب۔ناقل ) اور شاہد بھتیجا مولانا موصوف۔ناقل ) سارا وقت پاس رہے۔شام بھائی جان (مبارک احمد صاحب انصاری۔ناقل ) بھی آگئے اور ساڑھے نو بجے رات تک رہے۔ڈاکٹر صاحب اور لطفی بھائی بھی کئی مرتبہ آئے۔رات منیر احمد کہنے لگے کہ سب کی بجائے آج وہ ڈیوٹی دے دیں گے۔چنانچہ شاہد اور بھائی جان چلے گئے اور منیر احمد رات ان کے پاس رہے۔بچوں سے کہا کہ پاس نہ رہیں اس لئے لیقہ اور میں نے بچوں کو امی جان کی طرف سُلا دیا اور ہم دونوں ساڑھے دس بجے تک وہاں رہیں۔طبیعت