حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 616 of 923

حیاتِ خالد — Page 616

حیات خالد 611 آخری ایام بہت سنبھل گئی اور نیند اچھی آگئی۔نیند کی ہی حالت میں صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی دی ہوئی دوائی ۲۰ ، ۲۰ منٹ بعد دیتی رہیں۔ہم کافی حد تک مطمئن ہو کر لیٹ گئیں۔منیر احمد اور خالہ جان ان کے پاس بیٹھک ہی میں رہے۔پہلے دو تین دفعہ پیشاب کی حاجت ہوئی تو بستر پر لیٹے لیٹے برتن کا استعمال کیا۔کوئی ساڑھے بارہ، پونے ایک بجے ایک دم خود اٹھ کر بیٹھ گئے اور سلیپر بھی نہیں پہنے بلکہ بوٹ پہن کر غسلخانہ کی طرف جانے لگے۔خالہ جان کہتی رہیں کہ ہم تو آپ کو حرکت بھی نہیں کرنے دیتے یہ آپ خود کیوں جا رہے ہیں۔آپ نے کوئی جواب نہ دیا اور وہاں سے فارغ ہو کر آگئے۔آ کر نڈھال ہو کر لیٹ گئے ساتھ ہی کھانسی آئی۔صرف ایک دفعہ ہائے اللہ کہا اور بے ہوش ہو گئے۔ساتھ ہی خون آنے لگا۔یہ خون سرخ اور صاف تھا۔منیر احمد نے ڈاکٹر صاحب کو بلایا۔مگر دیر ہو چکی تھی۔دل کی مالش کرتے رہے۔لطفی بھائی نے دل میں ٹیکے بھی لگائے مگر سب بے سود۔وہ ہم سب کو روتا چھوڑ کر ہم سے بہت دُور اپنے مولائے حقیقی کے پاس پہنچ چکے تھے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنِ بلانے والا ہے سب سے پیارا اُس پر اے دل تو جاں فدا کر آخری تکلیف میں بے حد سکون تھا حالانکہ اس سے پہلے بعض دفعہ گھبراتے تھے۔اور کھانے اور دوائیوں کے متعلق کہتے تھے۔اس دن تو کچھ بھی نہ کہا اور بالکل گھبراہٹ کا اظہار نہ کیا بلکہ تسلی دیتے ر ہے۔خالہ جان نے ڈاکٹر صاحب کے آنے پر گھبراہٹ کا اظہار کیا تو کہنے لگے کیوں گھبراتی ہو۔تسلی رکھو۔اُس دن سب سے کچھ زیادہ ہی مسکرا کر ملتے رہے۔بڑے ماموں جان آئے تو ان سے خاص طور پر مصافحہ کیا۔حالانکہ اس سے پہلے اکثر ملنے کی وجہ سے زبانی ہی سلام ہوتا تھا۔بھائی جان جانے لگے تو اُن سے بھی مسکرا کر ملے اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔میں عصر کو ان کے پاس گئی ساجدہ میرے ساتھ تھی۔عطیہ بھی آتی رہتی تھی۔دیکھ کر پوچھنے لگے بشری کہاں ہے۔وہ سوئی ہوئی تھی۔شام کو وہ بھی ملی۔اب تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت ہی پیار کرتے تھے۔چند دن پہلے لیٹے ہوئے تھے کہ بشری کو بلایا اور اپنے دائیں طرف لٹا لیا۔پھر عطیہ کو بلایا اور دوسری طرف لٹا لیا۔ابھی تک وہ منتظر میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ دونوں پوتیوں کو اپنے بازوؤں پر لٹا کر بھینچ کر خوب خوب پیار کیا۔کبھی اُن دونوں کو دیکھ لیتے اور کبھی مسکرا کر میری طرف دیکھ لیتے۔آخری دن کی مسکراہٹ ایسی تھی کہ اب بعد میں خیال آتا ہے جیسے الوداعی ہو۔باقی سب کو بھی بڑے غور سے دیکھتے تھے۔بات کچھ بھی نہیں کی اور بالکل