حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 614 of 923

حیاتِ خالد — Page 614

حیات خالد 609 آخری ایام جاپان حال کراچی اور مکرم مولوی عنایت اللہ صاحب جا کے ضلع سیالکوٹ نماز جنازہ میں شامل ہوئے اور تیسرے مکرم میاں عطاء المنان صاحب مغربی جرمنی میں مقیم ہیں۔آپ کی دو شیرگان بھی زندہ ہیں یعنی محترمہ باجرہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد حنیف صاحب ریٹائر ڈ مینیجر ڈیری فارم اور محترمہ سارہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم صوفی رحیم بخش صاحب۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کی وفات کا سانحہ ایک عظیم جماعتی صدمہ اور نقصان اظہار تعزیت ہے۔ادارہ الفضل اس موقع پر آپ کی بیگم صاحبہ محترمہ، آپ کی اولا د اور دیگر تمام افراد خاندان کے ساتھ اور جملہ احباب جماعت سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالی حضرت مولوی صاحب مرحوم و مغفور کو جنت الفردوس میں خاص مقام قرب عطا فرمائے ، جملہ افراد خاندان اور جماعت کے احباب کو مومنانہ صبر کے ساتھ اس عظیم صدمہ کو برداشت کرنے کی ہمت دے اور خود اس نقصان کی تلافی فرماتے ہوئے ہم سب کو حضرت مولوی صاحب کا نمونہ اختیار کرنے کی توفیق بخشے۔آمین الفضل ۳۱ رمئی ۱۹۷۷ء صفحہ اوّل و آخر ) آخری دنوں اور وصال کے لمحات کی تفاصیل حضرت مولانا کی زندگی کے آخری دنوں اور پھر وصال کے لمحات کی پوری تفصیل آپ کی بہو مکرمه قاله شاہد و راشد صاحبہ نے ایک مکتوب میں چند روز بعد تحریر کی ، اس وقت کی تحریر ہونے اور معین تفاصیل کے لحاظ سے یہ بیان بہت اہمیت رکھتا ہے۔ان تفاصیل سے حضرت مولانا کی سیرت کے مختلف گوشوں پر بھی خوب روشنی پڑتی ہے۔چند منتخب حصے درج ذیل ہیں۔کھانسی تو کچھ عرصہ سے تھی مگر دس پندرہ دن پہلے بہت کم ہوگئی۔بخار نہ رہا۔مجھے بھی کہتے کہ تم جاپان تسلی کے خطا ہی لکھو۔میں اب ٹھیک ہوں۔۲۸ مئی کو کچھ حرارت ہوگئی اور کھانسی بھی آتی رہی۔خالہ جان کی ٹانگ میں بھی تکلیف تھی اس لئے شام کو ڈاکٹر لطیف صاحب کو بلوایا انہوں نے دیکھ کر کہا کہ آپ دونوں صبح ہسپتال آکر ایکسرے کروائیں۔چنانچہ اگلے دن خالہ جان اور خالو جان دونوں ساڑھے آٹھ بجے) کے قریب ہسپتال چلے گئے۔دس بجے کے قریب کار کی آواز آئی تو میں نے جلدی سے جا کر دروازہ کھولا اور اندر آنے پر ٹھنڈا پانی لا کر پاس میز پر رکھ دیا۔آپ کوٹ اُتارنے لگ گئے اور میں جلدی سے باہر آئی اور آ کر تینوں