حیاتِ خالد — Page 596
حیات خالد ا 590 اپنے بیٹے عطاء الرحمن کے نام ایک دردناک خط ذاتی حالات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ من نکردم شما حذر بکنید میرے نہایت عزیز بچے عطاء الرحمن اطال الله عمره واید و السلام عليكم و رحمة الله وبركاته میں نہیں جانتا کہ آپ میری زندگی میں ان سطور کو پڑھنے کے قابل ہو سکیں گے یا نہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے۔کہ وہ مجھے نسلاً بعيداً “ دکھائے۔بہر حال جو اس کی مرضی ہو گی ، ہو گا۔میں یہ سطور قادیان مقدس کی مسجد اقصیٰ اور اپنے جائے اعتکاف سے آج ۳۰ رمضان ا بروز جمعہ بعد نما زعصر لکھ رہا ہوں۔میرے پیارے بچے! میں آپ کے متعلق نہایت بلند اور اعلیٰ آرزوئیں رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو دین اسلام کا درخشندہ ستارہ بنادے۔نیک ، صالح، خادم دین اور اپنے حضور مقبولین میں سے بناوے۔میں آپ کو کامل متقی اور دیندار دیکھنا چاہتا ہوں۔میرے لخت جگر ! میں نہایت غریب اور کمزور باپ کا بیٹا ہوں۔اس بات کو کبھی نظر انداز نہ کرنا۔میرا پیارا باپ گزشتہ سال سے دسمبر ۱۹۲۷ء کو ہمیں داغ مفارقت دے گیا۔میں ان کی کوئی خدمت نہیں کر سکا۔ان کو مجھ سے بے اندازہ محبت تھی۔میں چاہتا ہوں کہ آپ ہر ایک دعا میں ان کے بلندی درجات کے لئے عاجزانہ دعا کریں۔عزیزم ! میں نے دنیا کو آزمایا اور نہایت بے وفا پایا۔بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی دائی یار اور ہر مصیبت میں کام آنے والا نہیں۔پس اس سے کامل وفاداری دکھانا، عسرویسر، رنج و راحت ہر حال میں اسی کے آستانہ پر گرنا، اس کے سوا ہمارا کوئی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ سے کبھی مایوس مت ہو۔سَلْ رَبَّكَ وَكُنْ سَنُوْلًا - میرے نور چشم ! اپنی بہنوں پر ہمیشہ احسان کرنا۔ان کی خطاء سے درگزر کرنا۔ہر قدم پر ان کی مدد کرنا۔میرے لئے اور اپنی والدہ ماجدہ کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہنا۔والسلام۔خاکسار اللہ دتا جالندھری ۲۳ مارچ ۱۹۲۸ء نوٹ : - عجیب اتفاق ہے کہ یہ خط حضرت مولانا کے کاغذات میں محفوظ رہا اور آپ کی وفات کے بعد ہی مکرم عطاء الرحمن صاحب طاہر اسے پہلی بار پڑھ سکے۔