حیاتِ خالد — Page 595
حیات خالد 589 ذاتی حالات لا تمنى الا وانت راض عَنِى وَ عَنْ ذُرِّيَّتِي اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الدُّعَاءِ اس جگہ آج خوب دعا کا موقع میسر آیا۔:☆ ☆ خاکسار تیرا نا چیز و ناکارہ بندہ ابوالعطاء۱۹۵۱ء۔۸-۱۳ آج ۱۲۶ دسمبر ۱۹۵۲ء جمعہ کا روز ہے اور اس وقت میں جلسہ سالانہ کی تقریب پر پاکستان سے پرمٹ لے کر ۳۰ دسمبر تک قادیان آیا ہوا ہوں۔کیا پیاری بستی ہے اور ہماری بے کسی کا کتنا دردناک منظر ہے کہ ہم حکومت کے سپاہیوں کی زیر نگرانی یہاں آئے ہیں۔اس وقت ساڑھے تین بجے ہیں اور ہم یعنی میں اور السیدمحمد سلیمحسن الجابی الشامی منارۃ المسیح کی بلند ترین منزل پر بیٹھے دعا کر رہے ہیں۔دل درد سے لبریز ہیں اور آنکھیں اشکبار ہیں اور زبان پر اسلام واحمدیت کی ترقی اور اسلام کے خادموں کی کامیابی ، قادیان میں جماعت کی واپسی، بائیل و مرام واپسی اور اپنے جملہ عزیزوں اور متعلقین کی دینی ودنیوی بہبودی کے لئے دعائیں کیں اور خوب کیں۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ابوالعطاء جالندھری۔نزیل قادیان دارالامان - ۱۹۵۲ء-۱۲-۲۶ ☆ ☆۔۔کل قادیان کی جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ نہایت کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔الحمد للہ۔آج پاکستانی وفد نے بیرونی محلہ جات کی بند مساجد میں جا کر دعائیں کیں۔محلہ دارالانوار، دار الفضل، دار البرکات، اپنے محلوں کی مساجد کے علاوہ ہم مسجد نور میں بھی گئے۔بڑی رقت سے دعائیں کیں۔میں نے اپنا مکان بیت العطاء بھی دیکھا۔سب دوست بھی ہمراہ تھے۔یہ مکان دو ہندوؤں کے پاس ہے۔اس کی حالت فی الحال تو اچھی ہے، صفائی کی کمی ہے۔محلہ دار البرکات میں محترمہ ام العطاء کے والدین کے مکان کو بھی اندر جا کر دیکھا۔محلہ دار الفضل میں مرحوم ماموں جان ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب کے مکان کو بھی دیکھا۔ان سب کے ہندو شر نارتھی کہتے تھے کہ مہاراج یہ مکانات ہمارے پاس آپ کی امانت ہیں آپ آئیں تو سنبھال لیں۔اللہ تعالی جلد قادیان کے واپسی کے سامان پیدا فرمائے آمین۔کل پاکستان کے لئے واپسی ہو گی۔فراق قادیان کے تصور سے دل پر کپکپی طاری ہے۔ابوالعطاء۔نزیل قادیان -۱۹۵۲ء۔۱۲۔۲۹