حیاتِ خالد — Page 597
حیات خالد 591 دل کو گداز کرنے والی ایک تحریر ذاتی حالات اے خدا! تو ہی اکیلا آسمان وزمین اور ہر چیز کا خالق ہے اور تیری معرفت ہی زندگی کا مقصد ہے۔میں تیرا ایک نہایت ہی نا کارہ گنہگار اور خود فراموش بندہ ہوں۔میرے حال پر رحم فرما اور آج تک کے تمام گناہ ، سب خطائیں، ساری لغزشیں اور کل بے اعتدالیاں معاف فرما۔ان کے بداثرات اور بدنتائج سے محفوظ رکھ۔میرے بُرے افعال اور گندے اخلاق کے زہریلے اثرات سے تمام بنی نوع انسان کو بالعموم اور میرے متعلقین ، اہل وعیال اور میری جان کو بالخصوص بیچا۔اے میرے رب ! میں تیرا عاجز بندہ ہوں۔میں آج مسجد مبارک میں اس مقام پر بیٹھ کر جو تیرے پیارے بندے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹھنے کا مقام ہے۔تجھ رب غفار وستار سے اپنے گنا ہوں کی معافی چاہتا ہوں اور آئندہ کے لئے جتنے لمحات میری زندگی کے باقی ہیں ان میں محض تیری رضا کے لئے ہر ایک کام کرنے کا عہد کرتا ہوں۔سب انسان اور ان کی رضا فانی ہے۔تیری ذات عالم الغیب اور باقی ہے۔پس تو اپنے اس ناتواں اور لڑکھڑاتے عاجز بندے کی دستگیری فرما اور اس کو ہمیشہ کے لئے ریاد کاری اور انانیت ، تکبر سے محفوظ رکھ ، خادم دین بنا۔اس کی اولاد کو اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا۔اے خدا ! یہ کام میرے لئے ناممکن ہیں، پر تیرے لئے سب آسان ہے تو خدا ہے میں تیرا بندہ ہوں۔تو میری بندگی کی لاج رکھ لے اور اپنی ربوبیت کی وسیع چادر میں چھپالے۔اے خدا! تیرے سوا آسماں وزمین میں میرا کوئی نہیں۔میں ایمان لاتا ہوں کہ تو ہی اکیلا اور یکتا ہے۔تیرا کوئی شریک نہیں۔ہر وقت تیرا ہی سہارا قابل اعتماد ہے۔میں مٹ جاؤں گا۔فنا ہوں جاؤں گا مگر تیری رضا کی راہیں غیر محدود ہیں۔تو مجھے اپنے فضل سے اپنے رحم سے اپنے کرم سے مغفرت کے بیچے ڈھانپ لے۔میں اکیلا ہوں، میں غمگین ہوں، میں بے بس ہوں، میں بے ہنر ہوں، میں بے علم ہوں ، میں ہر خوبی سے خالی اور ہر عیب کا منبع ہوں۔مگر صرف تیرا بندہ ہوں۔تیرے سوا سب مجھے ٹھکراتے ہیں، دھتکار تے ہیں، نفرت کرتے ہیں مگر اے میرے رب تو مجھ سے نفرت نہ کر، تو مجھے نہ دھتکار، تو مجھے نہ ٹھکرا، کیونکہ تیرے سوا میرا کوئی نہیں۔تو میرا ہو جا اور میری ساری غلطیوں کو دھو کر پاک کر لے۔اے خدا! تو اپنی رحمت کے صدقے ایسا ہی کر ، ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین۔میں تیرا نا کارہ بندہ ہوں۔عاجز الله دتا جالندھری مسجد مبارک قادیان دار الامان ۱۳ جولائی ۱۹۳۱ء بوقت ۷ بجے شام