حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 349 of 923

حیاتِ خالد — Page 349

حیات خالد 349 ممالک بیرون کے اسفار کے مطابق اپنی رفتار کو تیز اور کم کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔در حقیقت لیڈر کی ضرورت ایسے ہی موقعہ پر نمایاں ہوتی ہے۔راستہ میں سڑک کے دونوں طرف گندم کے کھیت پک کر زرد ہو چکے تھے اور پکی ہوئی فصلیں ایک آدھ دن میں عام کٹائی شروع ہونے والی تھی۔بعض زمینداروں نے کٹائی شروع بھی کر دی تھی۔معلوم ہوا کہ دوسرے دن ۱۳ اپریل کو بیساکھی ہے جس دن گندم کی عموماً کٹائی کا آغاز ہوتا ہے۔اسی تاریخ سے اس سال رمضان المبارک شروع ہورہا ہے اس میں سبق تھا کہ گندم کے کھیت وہی کاٹیں گے جنہوں نے وقت پر بویا تھا۔وہی اناج سے اپنے گھر بھریں گے جنہوں نے وقت پر محنت کی تھی اور تکلیف اٹھا کر اپنے کھیتوں کی آبیاری کی اور فضلوں کی نگہداشت کی۔اسی طرح رمضان کے مجاہدات میں خلوص دل سے حصہ لینے والے ہی وقت آنے پر اپنی فصلوں کو خوشی و خرمی سے سمیٹیں گے۔ہمیں چاہئے کہ ان مبارک ایام سے پورا پورا فائدہ اٹھا ئیں۔چوہدری صاحب کہنے لگے کہ لاہور میں جہاں آپ نے اُترنا ہے کار اخلاق کی ایک جھلک آپ کو پہلے وہاں چھوڑ آئے گی۔مجھے اپنے دوسرے بچے عطاء الرحیم اور ان کے ماموں ملک عنایت اللہ صاحب سلیم سے مل کر روانہ ہونا تھا۔چوہدری صاحب ملک عنایت اللہ صاحب کے کوارٹر واقعہ چوبرجی کوارٹرز میں ہمیں چھوڑ کر تب اپنے گھر گئے۔دیکھنے والے تعجب کرتے تھے۔میں نے انہیں بتایا کہ ابھی صبح چوہدری صاحب کار میں ربوہ میں میرے کوارٹر پر تشریف لائے تھے جہاں سے ہم لاہور کیلئے روانہ ہوئے ہیں۔در حقیقت صحیح اخلاق اپنے اندر بے ساختگی رکھتے ہیں اور تکلف اور بے ساختگی میں نمایاں فرق ہے۔بجے کے قریب ہم ریلوے سٹیشن پر سے اومنی بس میں پرندے اور ان کے پاسپورٹ سوار ہو کر واہگہ پہنچے۔پاسپورٹ اور سامان دکھائے اور سرزمین پاکستان سے ارض ہند کی طرف منتقل ہونے میں وقت لگتا ہے۔سپاہی پاسپورٹ کے بغیر کسی ہے۔انسان کو ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے نہیں دیتے۔عزیز عطاء الحجیب کی عمر ۱۲ سال ہے۔یہ سفر اس کے لئے عجیب نوعیت کا ہے۔نو سال قبل وہ قادیان سے اپنی والدہ کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا جبکہ میں ابھی قادیان میں ہی تھا اور آج وہ اپنے والد کے ساتھ پھر قادیان جا رہا ہے۔پاسپورٹوں کی چیکنگ کے وقفہ میں فضا کے پرندوں کو ہندوستان سے پاکستان اور پاکستان سے