حیاتِ خالد — Page 348
حیات خالد 348 ممالک بیرون کے اسفار بھی لا ہور جانے والے تھے۔ان کے لئے موٹر کار آئی ہوئی تھی۔انہوں نے چاہا کہ ہم اکٹھے سفر کریں۔پونے پانچ بجے صبح ہم ربوہ سے روانہ ہوئے۔میرا چھوٹا لڑکا عزیز عطاء المجیب بھی میرے ساتھ قادیان کے لئے روانہ ہوا۔روانگی کے وقت دعا سفر کے ساتھ بارگاہ ایزدی میں یہ بھی عرض کیا کہ تیرے سب سے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی۔اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ۔پس تو اس دعاء نبوی سے ہمیں بھی حصہ وافر عطا فرما۔آج جمعرات ہے اور ہم علی الصبح سفر کر رہے ہیں۔ابھی ہماری موٹر کار دریائے چناب بھی عبور نہ کر سکی تھی کہ پاکستان قافلے واپس جارہے ہیں میں مزدوری کرنے کے لئے آنے والے پٹھانوں کے قافلے اپنے وطن کو واپس جاتے ہوئے نظر آنے لگے۔کیا آزادی سے یہ لوگ اپنی ساری خاندانی ضروریات سمیت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔ان قافلوں میں عورتیں، بچے ، بوڑھے اور جوان اپنا اپنا فرض ادا کرتے ہوئے خوش و خرم پیدل اپنے وطن کو واپس جا رہے ہیں۔ان میں سے بوڑھے اور معذور اونٹوں یا گدھوں پر سوار نظر آتے تھے۔میں نے انہیں دیکھ کر کہا کہ واقعی اپنے وطن کے لئے واپسی کا تصور انسان کو مخمور کر دیتا ہے اور وہ راستے کی کوفتوں اور کلفتوں کو خندہ پیشانی سے گوارا کر لیتا ہے۔یہ قافلے یقینا ان قافلوں سے مختلف ہیں جو نو سال قبل مشرقی پنجاب سے مغربی پاکستان میں دھکیلے جا رہے تھے۔وہ مجبور تھے یہ آزاد ہیں۔وہ وطن سے نکالے جا رہے تھے اور یہ اپنی مرضی سے وطن کو واپس جا رہے ہیں۔بہر حال ان پٹھانوں کے قافلے نے ماضی قریب کے خانماں برباد قافلوں کا تصور تازہ کر دیا اور مستقبل کے شاندار قافلوں کا نقشہ بھی آنکھوں کے سامنے کھینچ دیا جب خدائی نوشتے پورے ہونگے ، اللہ تعالی کی نصرت نمایاں ہوگی وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ موٹر کار کا ڈرائیور بہت ہوشیار تھا میں نے محسوس کیا کہ تیز رفتاری کے راستے کے نشیب و فراز با وجود ہر موڑ پر وہ کار کو اچھی طرح سنبھال کر رفتار میں نمایاں کمی کر دیتا تھا۔سڑک کی ہر بجھی کے موقعہ پر اسے چوکنا ہونا پڑتا تھا۔وہ اپنی مہارت کے ماتحت موقعہ کے مناسب رفتار میں کمی بیشی کر لیتا تھا۔میں نے سوچا کہ در حقیقت ہر اچھا لیڈر اور قوم کا خیر خواہ راہنما اسی طرح راستوں کے نشیب و فراز اور بینچوں کو ٹھوظ رکھتے ہوئے اپنی قوم کی گاڑی کو چلاتا ہے۔وہ محض ناک کی سیدھ میں چلنے والے بے وقوف بچے کی طرح نہیں ہوتا۔بلکہ وہ ماہر ڈرائیور کی طرح سڑک کی حالت