حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 34 of 923

حیاتِ خالد — Page 34

حیات خالد 36 ابتدائی خاندانی حالات جب حضرت مولانا کی خدا رسیدہ والدہ محترمہ نے ۱۹۳۷ء مرحومہ والدہ صاحبہ کی یاد میں میں انتقال فرمایا تو آپ نے مرحومہ والدہ صاحب کی یاد میں " کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں اپنی پیاری والدہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا : - والد صاحب مرحوم کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ مستقل طور پر دارالامان میں سکونت پذیر ہو گئیں اور بچوں کی تربیت ان کا اہم کام تھا۔ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیں علاوہ ازیں میرے اپنے بچے ہیں۔سب کی حکمرانی والدہ صاحبہ کرتی تھیں۔انہوں نے قریباً دس سال قادیان میں گزارے اور یکم ستمبر ۱۹۳۷ء کو فوت ہوئیں۔اس عرصہ میں ساڑھے چار سال کے لئے میں فلسطین گیا۔مرحومہ والد و صاحبہ کو بیماری کے باعث ہمیشہ خیال رہتا تھا کہ کہیں میری واپسی سے پہلے وہ وفات نہ پا جائیں۔انہوں نے یہ دن گن گن کر گزارے۔ان کی بیماری اور سخت بیماری کی خبر بارہا مجھے پہنچی اور ایک مرتبہ تو ارض مقدسہ کی ایک وادی میں بڑے کرب و اضطراب سے میں نے دعا کی۔مجھے یقین ہو گیا اللہ تعالیٰ بہر حال میرے ہندوستان لوٹنے سے پہلے ان کی روح قبض نہ کرے گا۔میری واپسی کے بعد ہی اخویم مولوی عنایت اللہ صاحب مولوی فاضل تبلیغ کیلئے سیٹلمنٹس ( سنگاپور ) روانہ ہو گئے۔چند ماہ بعد میرے بھائی مولوی عبدالغفور صاحب مولوی فاضل جاپان بھیجے گئے۔یہ دونوں بھائی (اللہ ان کی عمر میں برکت دے ) تحریک جدید کے مجاہد ہیں۔چوتھا بھائی ابھی بارہ برس کا ہے انشاء اللہ وہ بھی اسی راستہ پر آنے والا ہے۔اور آج جبکہ میری پیاری والدہ صاحبہ ہم سب کو چھوڑ کر راہی ملک بقا ہو گئی ہیں ، یہ دونوں مجاہد مشرق قریب اور مشرق بعید میں احمدیت کی تبلیغ میں کوشاں ہیں۔میرا دل شکستہ ہے۔میں نے آج بچ بچ محسوس کیا کہ میں یتیم رہ گیا ہوں۔میں اندازہ کرتا ہوں کہ اس حادثہ سے میرے غریب الوطن بھائیوں کو سخت صدمہ ہوگا۔اس لئے تمام اہل دل احباب سے دردمندانہ درخواست دعا کرتا ہوں۔والدہ صاحبہ رضی اللہ عنہا صرف چند ہفتہ بیمار رہیں۔علاج میں پوری کوشش کی گئی۔دارالامان کے اکثر ڈاکٹر صاحبان خصوصاً ڈاکٹر محمد ثناء اللہ خان صاحب نے پوری ہمدردی سے علاج کیا مگر تقدیر کا نوشتہ پورا ہوا۔والدہ صاحبہ نے اس بیماری میں بھی صبر اور حوصلہ کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔ان کی وفات کی خبر میری ہمشیرہ، میرے ماموں اور مجھے بذریعہ خواب مل چکی تھی۔والدہ صاحبہ کو تو رویا میں وقت اور تاریخ بھی بتلا دی گئی تھی۔انہوں نے آخری دن زبانی وصایا میں بعض بچوں کو نماز و تلاوت قرآن کی نصیحت کی۔درس قرآن مجید کے متعلق فرمایا۔قرآن مجید سنا۔بیماری کے ہر مرحلہ میں اطمینان کا ہی اظہار کیا۔آخری روز بھی تسبیح وتحمید اور