حیاتِ خالد — Page 35
حیات خالد 37 ابتدائی خاندانی حالات اشاروں میں نماز ادا کرنے میں صرف کئے۔اللہ تعالیٰ کا نام لینے سے ان کے چہرہ پر خوشی ، انبساط اور مسکراہٹ کے آثار پیدا ہو جاتے۔آخر سوا تین بجے بعد دو پہر تین مرتبہ اللہ بڑے فضلوں والا ہے اللہ ہمارا دوست ہے کہہ کر مسکرانے کے بعد خدا تعالیٰ کو جان سونپ دی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ میری مرحومہ والدہ ۵۵ سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔وہ پڑھی لکھی نہ تھیں ان کا ایمان صحیح طور پر ایمان العجائز تھا۔وہ ہم سب بھائیوں کو دین کی خدمت کرنے کی تلقین فرماتی تھیں اور خدمت بجالانے پر خوشی کا اظہار کرتی تھیں۔وہ تہجد گزار تھیں۔رات کے آخری حصہ میں تضرع وزاری سے احمد بیت اور سلسلہ اور حضرت امیر المومنین اور اپنی اولاد کیلئے دعائیں کرتی تھیں۔آہ! اب یہ سلسلہ بظاہر بند ہو گیا اور ہمارے لئے درد بھرے دل سے دعا کرنے والی ماں ہم سے جدا ہوگئی۔والدہ صاحبہ کی بیماری نے جب شدت اختیار کی تو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ ڈلہوزی تشریف رکھتے تھے۔والدہ صاحبہ نے حسرت آمیز لہجہ میں کہا۔اب تو حضرت صاحب بھی یہاں نہیں۔یعنی حضور میرا جنازہ نہ پڑھا سکیں گے۔جب حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ ۳ ستمبر کو واپس تشریف لائے اور میں نے اپنی والدہ مرحومہ کی یہ خواہش بذریعہ تحریر حضور کی خدمت میں پیش کی تو حضور نے از راہ نوازش ۳ ستمبر نماز جمعہ کے بعد دوبارہ جنازہ غائب پڑھایا۔اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے میری والدہ صاحبہ کی اس خواہش کو بھی پورا فرما دیا کہ حضور میرا جنازہ پڑھائیں۔غرض میرے وہ غریب والدین جنہوں نے آج سے پینتیس برس قبل خدا کے مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کیلئے ہر قسم کا دکھ اٹھایا اور اپنے بچوں کو خدمت اسلام پر متعین دیکھنے کے بعد زندگی کے دور کو ختم کر کے بہشتی مقبرہ میں مدفون ہو گئے۔وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پا گئے اور انہوں نے اپنے مولا کو راضی کر لیا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَ أَرْضَاهُمَا - لیا۔بالآخر تمام احباب سے درخواست ہے کہ وہ ہم سب بھائیوں، بہنوں اور دیگر افراد خاندان کیلئے دعا فرمائیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو۔اور ہمیں اپنے فضلوں کا وارث بنائے۔آمین۔" دلفگار۔ابوالعطاء جالندھری قادیان (روز نامه الفضل قادیان ۹ ستمبر ۱۹۳۷ء صفحه ۹۸)