حیاتِ خالد — Page 33
حیات خالد 35 ابتدائی خاندانی حالات بیمار ہوئے۔علاج کیلئے قادیان گئے مگر جانبر نہ ہو سکے۔۷ دسمبر ۱۹۲۷ء کو فوت ہو کر بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ (الفضل ۶ جنوری ۱۹۲۸ء) کہتے ہیں انسان کی کامیاب زندگی حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی والدہ محترمہ میں اس کی والدہ کا گہر اعمل دخل ہوتا ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ آسمان احمدیت پر ایک روشن ستارہ بن کر چکے تو یقینی طور پر اس میں آپ کی نیک، فرشتہ سیرت اور بزرگ والدہ کا بابرکت ہاتھ تھا۔آپ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی عائشہ بی بی تھا۔آپ سڑو یہ ضلع ہوشیار پور کے قلص احمدی وجود حضرت میاں نظام الدین صاحب کی صاحبزادی تھیں۔آپ ایک انتہائی پختہ ایمان رکھنے والی دیندار خاتون تھیں جنہوں نے نہایت تنگی و ترشی کے حالات میں بھی اپنے قابل احترام خاوند حضرت منشی امام الدین صاحب رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا۔آپ کی گود میں حضرت مولانا ابوالعطاء، صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے وجود نے تربیت پائی جنہوں نے حضرت فضل عمرؓ سے ”خالد“ کا خطاب پایا۔حضرت عائشہ بی بی صاحبہ کا ذکر حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے اپنے قلم سے دو جگہ فرمایا ہے۔حیاۃ ابی العطاء کی دوسری قسط مطبوعہ الفرقان نومبر ۱۹۶۷ صفحہ ۴۱ تا ۴۴ میں حضرت مولانا نے تحریر فرمایا، یہ مولانا کے دور طالب علمی میں قیام قادیان کا ذکر ہے۔ماں کی شفقت دو ہر ماں کو اپنے بچے سے پیار ہوتا ہے۔میری والدہ ماجدہ کو مجھ سے بہت پیار تھا۔ان کے زندہ رہنے والے بچوں میں میں پہلا تھا۔تعطیلات میں گھر آنے پر انہیں بے حد خوشی ہوتی۔ہر روز وہ اپنی بساط کے مطابق میرے لئے نئی چیز پکا تیں۔یوں معلوم ہوتا کہ تعطیلات یونہی گزرگئی ہیں۔واپسی کے وقت والدہ صاحبہ کی حالت کا میری طبیعت پر بڑا اثر تھا مگر تعلیم کے لئے جانا ضروری تھا۔ہمارا گاؤں ریلوے اسٹیشن پر تھا۔بڑی اضطرابی کیفیت میں میرے والدین نے مجھے الوداع کہا۔میرے کھانے کیلئے موسم سرما کے مناسب حال مجھے پتیاں بنا کر بھی دیں۔میں جانتا ہوں کہ میرے والدین نہایت دعا گو تھے۔ان کی متضرعانہ دعاؤں کے میں نے بار ہا نظارے کئے ہیں۔آج تک میرا دل ان کی شفقتوں اور قربانیوں کو یاد کر کے روزانہ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا کہتا ہے۔میرے لئے یہ بات موجب اطمینان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر دو موصی اصحاب حضرت مسیح موعود کے طور پر بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں“۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۷، صفحہ ۴۱ ۴۴ )