حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 347 of 923

حیاتِ خالد — Page 347

حیات خالد 347 ممالک بیرون کے اسفار ہجرت پاکستان کے بعد حضرت مولانا قادیان جانے کیلئے ہمیشہ بے تاب رہے۔جونہی ملکی حالات نے اجازت دی آپ اولین فرصت میں قادیان دارالامان تشریف لے گئے۔ایک مختصر جائزہ کے مطابق آپ نے کم و بیش دس بار قادیان کیلئے سفر اختیار فرمایا۔پہلی بار آپ ۱۹۵۶ء میں گئے۔یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔آپ نے یہ بابرکت مہینہ قادیان دارالامان میں گزارا نیز مسجد اقصیٰ میں آخری عشرہ میں اعتکاف بھی کیا۔آپ کو مزید سعادت یہ نصیب ہوئی کہ آپ نے سارے قرآن مجید کا درس بھی دیا۔(اس سفر کی ایک یادگار تصویر کتاب میں شامل ہے )۔اس ابتدائی سفر کے بعد آپ نے ۱۹۶۰ ء اور ۱۹۶۱ء میں ( دودو بار )،۱۹۶۲ء،۱۹۶۳ء۱۹۶۴ء اور ۱۹۶۵ء میں ہر سال قادیان کا سفر اختیار فرمایا۔دو سال کے وقفہ کے بعد ۱۹۶۷ء میں تشریف لے گئے۔زندگی میں آخری بار قادیان جانے کا موقع ۱۹۶۹ء میں ملا۔آپ کی مندرجہ بالاعظم اور پھر اس کثرت اور تواتر کے ساتھ قادیان جانا آپ کی اس دلی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے جو قادیان کی مقدس بستی کیلئے آپ کے دل میں پائی جاتی تھی۔یہ بستی ، اس کا ذرہ ذرہ آپ کو پیارا تھا۔اور پھر اس کے مکین۔درویشانِ کرام بھی آپ کے دل میں بستے تھے۔ہمیشہ الفرقان میں بڑی محبت اور قدردانی کے ساتھ درویشان کی قربانیوں کا ذکر فرماتے۔اسی جذبہ سے آپ نے رسالہ الفرقان کا ایک منحنیم نمبر ” درویشان قازیان نمبر کے طور پر شائع کیا جو جماعتی تاریخ میں اس موضوع پر ایک تاریخی اور قابل قدر دستاویز ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت مولانا نے قادیان کے بعض سفر انفرادی طور پر اختیار فرمائے اور اکثر دفعہ قافلہ میں شامل ہو کر جلسہ سالانہ قادیان میں شرکت فرمائی۔ان مواقع پر آپ کو بالعموم جلسہ سالانہ میں تقاریر کرنے اور درس دینے کے مواقع بھی ملتے رہے۔آپ نے قادیان کے بعض سفروں کے بارہ میں الفرقان الفضل ربوہ اور بدر قادیان میں مختصر نوٹ اور مضامین بھی تحریر فرمائے۔بطور نمونہ ایک مضمون ذیل میں درج کیا جاتا ہے جو الفضل ربوہ ۲۶ را پریل ۱۹۵۶ء میں شائع ہوا۔ربوہ سے قادیان ۱۲ را پریل ۱۹۵۶ء بروز جمعرات علی الصبح میں ربوہ سے قادیان کے لئے عجیب حسن اتفاق روانہ ہوا۔حسن اتفاق تھا کہ اسی روز محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب