حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 336 of 923

حیاتِ خالد — Page 336

حیات خالد 335 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام میں حضرت مولانا عربی زبان میں تقریر کی مشق کیلئے جایا کرتے تھے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ آپ تازہ عربی اخبارات خرید کر وہاں اس وادی میں اکیلے چلے جاتے اور کھیتوں کے درمیان کھڑے ہو کر بلند آواز سے اخبار پڑھتے اور تقریر کی مشق کیا کرتے تھے۔اس راز کا پتہ اس طرح لگا کہ ایک روز کوئی اور احمدی بھی قریبی راستہ سے گزر رہا تھا کہ اس نے حضرت مولانا کی بلند آواز سنی اور اس طرح یہ بات ہمارے علم میں آئی کہ آپ تبلیغ اسلام کی خاطر کس طرح دن رات محنت کرتے تھے اور اپنی لیاقت کو بڑھانے کے لئے کیا کیا طریق اختیار فرماتے تھے۔ایک روز مکرم عبد الله اسعد عودہ صاحب مجھے اپنے ایک پرانے اور معمر شنا سا سے ملانے کیلئے لے گئے۔جاتے ہوئے انہوں نے تعارف کروایا کہ وہ ایک معروف علم دوست آدمی ہیں اور ایک مقامی اسلامی تعظیم کے لیڈر ہیں۔ان کا جماعت سے رابطہ رہا ہے اور بعض اوقات وہ مسجد بھی آتے رہے ہیں۔انہیں ہمارے آنے کی اطلاع تھی۔ہم پہنچے تو وہ عرب رواج کے مطابق ہمارے استقبال کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے اور رواج کے مطابق بہت پُر جوش معالقہ سے ہمارا استقبال کیا۔پھر بہت تکریم کے ساتھ گھر کے اندر لے گئے اور مرکزی جگہ پر بٹھا کر فوراً ہی مہمان نوازی میں مصروف ہو گئے۔میرے لئے یہ اس نوعیت کا پہلا تجربہ تھا۔باوجود اور افراد خانہ کے جو مدد کے لئے تیار تھے یہ بزرگ دوست خود گھر کے اندر سے کھانے پینے کی اشیاء ایک ایک کر کے لاتے اور بہت محبت سے پیش کرتے تھے۔اس دوران ان کے محبت بھرے کلمات اور عزت و تکریم کا انداز ان کی قلبی محبت کا آئینہ دار تھا۔بار بار خوشی کا اظہار کرتے اور کھانے پینے کا اصرار کرتے تھے۔مہمان نوازی کا زور ذرا دھیما ہوا تو باتیں شروع ہوئیں۔عبداللہ صاحب نے جماعت کے احوال بیان کئے اور کچھ امور اس معمر بزرگ دوست نے بیان کئے۔دوران گفتگو میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو جماعت احمدیہ سے کب سے تعارف ہے۔اس پر جو جواب انہوں نے دیا وہ سن کر میں بھی اور عبداللہ صاحب بھی حیرت میں ڈوب گئے۔انہوں نے کہا کہ میں تو جماعت احمدیہ کو بہت پرانے وقتوں سے جانتا ہوں میں مسجد بھی کئی بار گیا ہوں اور پھر کہا کہ میں السید مولانا ابوالعطاء سے بھی ملا ہوں وہ یہاں جماعت کے مبلغ تھے اور بہت بڑے عالم تھے۔اچانک یہ ذکر سن کر ہم دونوں بہت حیران بھی ہوئے اور خوش بھی اور جب عبداللہ صاحب نے انہیں بتایا کہ میں ان کا بیٹا ہوں تو اس وقت ان کی حالت دیکھنے والی تھی۔فرط محبت سے اُٹھ کر مجھے گلے لگالیا اور بہت ہی گرمجوشی سے ملے۔مجھے اس وقت حضرت ابا جان کی یاد نے