حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 335 of 923

حیاتِ خالد — Page 335

حیات خالد 334 بلا عر بیہ میں تبلیغ اسلام اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا۔سب دوست بہت شوق اور محبت سے اکٹھے ہوئے اور محبت و پیار اور جذبات اُلفت سے معمور ایک یادگار مجلس منعقد ہوئی۔سب دوستوں نے اپنی پرانی یادوں اور ایمان افروز واقعات کو بیان کیا۔الحمد للہ کہ اس ایمان افروز مجلس کی ویڈیو بھی تیار ہو گئی اور ان سب محبین اور مخلصین کے ساتھ ایک تاریخی گروپ فوٹو بھی ہو گیا۔میں نے حضرت ابا جان سے جماعت فلسطین کے ایمان و اخلاص اور ان کی محبت کا تذکرہ تو بار ہاسن رکھا تھا لیکن اس کیفیت کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور محبت بھرے جذبات اور واقعات کو سن کر بہت لطف آیا اور دل جذبات حمد سے لبریز ہو گیا کہ یہ سب جماعت کی برکت ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔اس کیفیت کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔آج بھی اس مجلس کی یاد آتی ہے تو آنکھیں پُر آب ہو جاتی ہیں اللہ تعالیٰ سب مخلصین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین ایک دوست نے ذکر کیا کہ میں حضرت مولانا کے ساتھ پریس میں کام کیا کرتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ مولا نا عربی رسالہ کے لئے خود ہی مضامین لکھتے اور پھر خود ہی کمپوڑ بھی کرتے اور چند احباب کی مدد سے دستی پریس پر شائع کیا کرتے تھے۔وہ بھی مشین چلانے کی خدمت کیا کرتے تھے۔ایک دوست نے یہ واقعہ یاد دلایا کہ وہ ان کے ساتھ فٹ بال کھیلتے تھے اور حضرت مولانا اکثر ان سے فٹ بال چھین لینے میں کامیاب ہو جایا کرتے تھے۔بعض نے اکٹھے سفر پر جانے کی یاد تازہ کی۔بعض نے مخالفین سے مناظرات اور تبلیغی گفتگو کی تفاصیل بتائیں۔بعض نے اس قہوہ کا ذکر کیا جو وہ اپنے ہاتھ سے تیار کر کے انہیں پلایا کرتے تھے۔الغرض محبت اور پیار کی زبان سے ایسا خوبصورت تذکرہ جاری رہا کہ ہر شخص کا دل ایک بار پھر حضرت ابا جان کی یاد سے آباد اور دعاؤں سے پُر ہو گیا۔الحمد للہ علی ذالک مجھے معلوم ہوا کہ ابتدائی پرانی مسجد کے ساتھ ایک چھوٹا سا حجرہ ہوا کرتا تھا جس میں حضرت ابا جان نے قیام کیا۔اب تو ماشاء اللہ اس پرانی مسجد کی جگہ پر ایک شاندار اور بہت خوبصورت مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔بعد ازاں آپ نے ایک اور مکان میں رہائش اختیار کی جو مسجد کے بالکل ساتھ تھا۔میں نے وہ جگہ بھی دیکھی اب وہاں نیا مکان تعمیر ہو چکا ہے۔ایک روز جماعت کے امیر مکرم محمد شریف عودہ صاحب مجھے اور میری فیملی کو وہ جگہ دکھانے لے گئے جو مسجد کے قریب ہی پہاڑ کے دامن میں ہے۔جہاں ایک چشمہ پر حضرت ابا جان ٹھنڈے پانی میں نہانے کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اس کے قریب کے کھیتوں میں ابتدائی ایام