حیاتِ خالد — Page 337
حیات خالد 336 بلا د عربیہ میں تبلیغ اسلام بے قابو کر دیا۔اللہ تعالیٰ کا کتنا احسان ہے کہ ان کی محبت بھری یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ان کی محنتیں اور قربانیاں آج بھی زندہ ہیں۔ان کا نیک تذکرہ آج بھی جاری وساری ہے۔الحمد للہ زبان عربی میں مہارت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو عربی زبان پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔چنانچہ آپ نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ سفر بلا د عربیہ کا ایک اہم مقصد عربی زبان میں مہارت حاصل کرنا ہے۔چنانچہ اس اعتبار سے آپ پوری طرح کامیاب رہے اور آپ نے اللہ تعالی کے فضل سے عربی زبان میں نہایت اعلیٰ پایہ کی مہارت حاصل کی۔آپ کی اس خصوصیت کا چر چا جابجا آپ کی زندگی کے مختلف ادوار میں ہوتا رہا ہے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو عربی زبان میں خصوصی مہارت حاصل تھی اور اپنے تو اپنے غیر بھی آپ کی زبان عربی میں مہارت دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔جماعت کے معروف قلم کار مکرم محمود مجیب اصغر صاحب لکھتے ہیں :- ۲۲ - ۱۹۶۰ء میں خاکسار تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں پڑھتا تھا۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری ہمیں تھیالوجی ( دینیات) کا مضمون پڑھاتے تھے۔انہیں عربی زبان پر عبور حاصل تھا اور قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر نہایت آسان طریقے سے سکھاتے تھے۔کلاس میں سوال و جواب کی مجلس بھی لگتی تھی۔لڑکے بے تکلف ہو کر سوال کرتے تھے اور حضرت مولوی صاحب نہایت خندہ پیشانی اور بشاشت قلب سے سوالوں کے جواب دیتے تھے۔ایک مرتبہ کالج میں ایک عربی نژاد سکالر آئے۔اس موقعہ پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے عربی میں تقریر کی۔عربی تقریر فی البدیہہ تھی اور نہایت روانی کے ساتھ انہوں نے تقریر فرمائی۔ان کی عربی اور اُردو تقریر دونوں میں ایک جیسی روانی ہوتی تھی۔آپ کا ایک خاص انداز بیان تھا جو دلوں پر بہت اثر کرتا تھا۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع سرگودھا وسابق امیر صوبہ پنجاب نے اپنے مضمون مطبوعہ الفضل میں عربی زبان میں مہارت کو آپ کی خاص خوبی قرار دیتے ہوئے تحریر فرمایا : - آپ کو تبلیغ اسلام میں بہت کام دیتا۔آپ ان چند ایک علماء میں سے تھے جو عربی زبان میں بے تکلف تحریر و تقریر کر لیتے یہ ملکہ بھی (الفضل ۲۷ جون ۱۹۷۹ ء صفحه ۵)