حیاتِ خالد — Page 323
حیات خالد 322 بلاد عر بیہ میں تبلیغ اسلام توفیق دی تو وہاں کے بعض احباب کی قربانیوں کا تذکرہ بھی شائع کر سکوں گا۔وباللہ التوفیق۔الغرض سب سے پہلا کام تنظیم جماعت کا ہوا۔مولا نائٹس کے زمانہ میں مخالفین کے جوابات میں بہت سی کتابیں شائع کی گئیں۔رسالہ کا اجراء بعض غیر احمدیوں کے متعلق تھیں اور بعض عیسائیت کے متعلق اور بعض بہائیت کے متعلق۔مگر مولانا ابوالعطاء صاحب نے ایک رسالہ کا اجراء کیا جو پہلے سہ ماہی تھا۔اس وقت بے سروسامانی کی یہ حالت تھی کہ سہ ماہی رسالہ کا جاری کرنا بھی بہت مشکل اور نا ممکن خیال کیا جاتا تھا مگر مولانا کے عزم نے ثابت کر دکھایا کہ ناممکن کا لفظ احمقوں کی ڈکشنری میں لکھا ہوتا ہے۔وہ سہ ماہی رساله با وجود کی سرمایہ کے اور باوجود جماعت کی ابتدائی حالت کے اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے جاری کر دیا گیا۔جو آہستہ آہستہ ترقی کرتا چلا گیا اور آج خدا تعالیٰ کے فضل سے وہی رسالہ ماہواری رسالہ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ابتداء میں اس کی طباعت کے لئے وقتیں تھیں۔کبھی ان ہی وقتوں کی وجہ سے مصر سے طبع کرانا پڑتا تھا۔خریدار کوئی نہیں ملتا تھا۔کسی اخبار یا رسالہ سے اس کا تبادلہ کرنا تو ایک طرف رہا کسی اخبار نو میں سے یہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ تعصب کی وجہ سے اسے پڑھے گا بھی یا نہیں مگر آج خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ سعی اس قدر بار آور ہوئی ہے کہ رسالہ تمام ممالک عربیہ میں ایک خاص شہرت حاصل کر گیا ہے اور اس کی اشاعت مراکش، الجزائر امریکہ تک پھیل گئی ہے اور رسالوں اور اخبارات نے تبادلے بھی منظور کر لئے ہیں بلکہ بعض بڑے بڑے بلند پایہ اشخاص نے اس رسالہ پر ریویو لکھے اور اس کی مدح سرائی کی۔اس رسالہ نے نہ صرف ہمارے احباب کے علم میں اضافہ کیا بلکہ مخالفین کے اعتراضوں کا جواب دیا۔عیسائیوں، بہائیوں، دہریوں پر ہجوم کیا اس ہجوم کی وجہ سے بھی لوگوں میں ایک بہت بڑی ہمدردی ہم سے پیدا ہو گئی ہے۔اب جب کہ خدا تعالی کے فضل وکرم سے رسالہ با قاعدہ اور رسالہ کے لئے ایک اور قدم ، ہوار ہوگیا۔ایک اور قدم اٹھایا گیا جو بہت ہی بلند و بالا تھا۔اور وہ یہ تھا کہ یورپ کے مستشرقین کو رسالہ بھیجا جانے لگا۔مستشرقین یورپ میں بہت سے لوگ احمدیت کے نام سے بھی نا واقف تھے مگر اس رسالہ نے جبل کرمل سے طلوع کر کے یورپ کی وادیوں میں اپنی شعاعیں ڈالیں۔یہ ایک ایسا کام ہے جس کی قیمت آج نہیں لیکن کسی وقت معلوم ہوگی۔