حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 322 of 923

حیاتِ خالد — Page 322

حیات خالد 321 بلا دھر ہیں میں تبلیغ اسلام کام تنظیم جماعت کا کیا اور قاہرہ اور فلسطین میں اگر چہ جماعتیں تو موجود تھیں اور ان کا نظام بھی تھا مگر ضرورت تھی کہ اسے اس سے زیادہ بہتر صورت میں لایا جائے۔چنانچہ با قاعدہ انجمن کی تشکیل عمل میں آئی۔اور رئیس ، سیکرٹری ، سیکرٹری تبلیغ ، لایبریرین، فنانشل سیکرٹری کے عہدے عمل میں آئے۔احباب جماعت تقریریں کرتے، تبلیغ کرتے ، لائبریری سے کتا میں لیکر پڑھتے۔بعض اوقات ٹریکٹ اور رسالے احمدی نوجوان تقسیم کرنے کے لئے لے جاتے۔ایک نوجوان عبد الحمید خورشید نامی مولانا جلال الدین صاحب شمس کے قاہرہ کا ایک واقعہ ہاتھ پر احمدی ہوا تھا اسے سلسلہ کی تبلیغ کا بے حد شوق تھا اور اس جوش کی وجہ سے وہ اپنے حلقہ احباب میں سخت معتوب ہو گیا تھا۔اکثر لوگ اس کے دشمن ہو گئے تھے اور اس کو نقصان پہنچانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ایک دفعہ مولانا ابوالعطاء کے زمانہ قیام میں وہ جب کہ ایک نمبر " البشری" کا تقسیم کر رہا تھا تو اس کے خلاف بیحد جوش پھیل گیا۔" البشری کا یہ نمبر علمائے ازھر کے جواب میں شائع کیا گیا تھا۔علمائے از ھر نے اپنے رسالہ انوار الاسلام میں ایک لمبا چوڑا مضمون احمدیت کے خلاف شائع کیا تھا۔اس مضمون کو مصر میں ہی نہیں بلکہ تمام عالم اسلامی میں بہت بڑی اہمیت دی گئی۔فلسطین، شام، عراق، عدن، کویت ، سنگا پور اور مراکش کے اخباروں میں میں نے خود اسے چھپا دیکھا تھا۔”البشری میں مولانا ابوالعطاء نے اس رسالہ کا جواب لکھا۔اس جواب کی اشاعت نہایت ضروری تھی اور ضرورت تھی کہ علماء کے گڑھ یعنی از ھر اور اس کے گرد و پیش اسے بکثرت تقسیم کیا جائے۔تمام احمدیوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔عبدالحمید آفندی خورشید نے اسے شارع ازہر میں تقسیم کرنا شروع کیا۔ایک قہوہ خانہ میں ازھری طالب علم جمع تھے انہوں نے عبدالحمید کو گھیر لیا۔پہلے تو اس سے بحث مباحثہ کرتے رہے پھر لڑائی کی صورت بنالی اور انہوں نے ارادہ کیا کہ اسے مارڈالیں۔مگر گشت پر گزرنے والے سپاہی نے اس کی جان بچائی۔عبدالحمید جب ان بھیڑیوں میں سے نکل کر چل پڑا تو بعض شریر بھی اس کے پیچھے چل پڑے۔مگر عبد الحمید ایک گلی میں گھس گیا اور گھوم کر اپنے ایک واقف کار کے مکان میں داخل ہو گیا۔جہاں ساری رات اس کا مراقبہ کیا گیا اور فجر کی نماز کے وقت وہ دشمن اس جگہ کو چھوڑ کر چلے گئے۔بلاد عربیہ کی تبلیغ میں وہاں کے احمدی احباب کی بہت سی باتیں قابل ذکر ہیں لیکن یہاں صرف ایک پر اکتفا کر کے یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ وہاں کے احباب میں سلسلہ کی اشاعت کیلئے ایک ایسی روح پیدا ہو چکی ہے کہ وہ اس غرض کیلئے قربانی میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔اگر خدا نے