حیاتِ خالد — Page 324
حیات خالد 323 بلا د عر بیہ میں تبلیغ اسلام ان کاموں میں سے جو مولانا ابوالعطاء کے زمانہ قیام میں بلاد عربیہ میں سرانجام پریس کا قیام پائے ایک عربی پریس کا قیام ہے۔فلسطین میں ہمارے ہاتھ میں پریس کے نہ ہونے سے یہ اندیشہ تھا کہ کسی وقت فلسطینی مطیعے ہمارے رسالوں اور کتابوں کے چھاپنے سے انکار کر دیں تو ایسی صورت میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہو جائے گا اس لئے اپنا پر لیس قائم کرنا نہایت ضروری تھا جسے آہستہ آہستہ بڑھایا جا سکتا ہے۔چنانچہ با وجود شدید دشواریوں کے مولانا ابوالعطاء کی ہمت نے ایک پریس کا افتتاح کر دیا۔اس سلسلہ میں یہ بات نہایت عجیب ہے کہ پریس کی خرید کے اخراجات وہاں کی جماعتوں نے ادا کئے۔مولانا جلال الدین شمس نے اپنے زمانہ قیام میں کہا پیر کے جبل کرمل پر مسجد کی تکمیل وافتتاح ایک مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔جس کا نام مسجد سیدنا محمد رکھا۔احباب نے نہایت محبت اور شوق سے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔مگر مسجد کی چھت کا کام باقی تھا کہ مولانا شمس صاحب واپس آگئے۔اور یہ کام مولانا ابوالعطاء کے سپر د ہوا۔مولانا ابوالعطاء کے سامنے اگر چہ ہوا۔بہت سی مشکلات تھیں مگر انہوں نے اس کام کے متعلق پوری توجہ اور پوری ہمت کو استعمال کیا۔تعمیر قومی کیلئے مسجد کا وجود بڑا ضروری ہے۔بلاد عر بیہ میں مسجد قومی زندگی کا نشان ہے ہمارے پاس کوئی مسجد نہ تھی اور عام طور پر ہم لوگ اپنے مکانوں میں نمازیں پڑھتے تھے۔مگر اندیشہ تھا کہ کہیں یہ غلط نہھی نہ پھیلا دی جائے کہ ہم مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہی نہیں سمجھتے اس لئے ضرورت تھی کہ ہم ایک مسجد تعمیر کریں۔جو بہت بلند و بالا ہو اور وہ اپنے وجود سے اعلان کرتی رہے کہ یہ لوگ کوئی جدید مذہب نہیں رکھتے بلکہ دین فطرت ہی کے تابع ہیں اور مسجد کا قبلہ رخ ہونا بتلاتا رہے کہ یہ مسجد آخر المساجد سے کوئی جدا چیز نہیں۔اذان کی آواز ہمارے مسلمان ہونے اور اسلام پر ایک کھلی کھلی شہادت ہو اور ان تمام غلط فہمیوں کا قلع قمع کر دے جو پھیلائی جاتی ہیں۔ایک بہت بلند و بالا مسجد بنانا اگر چہ اس وقت ہمارے امکان میں نہ تھا مگر خدا تعالی نے ایک پہاڑی پر مسجد بنانے کی صورت پیدا کر دی اور اس طرح ہمارے عقائد کی اشاعت اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ایک ذریعہ پیدا کر دیا۔ایک اور مفید اور عظیم الشان کام کی داغ بیل مولانا ابوالعطاء کے ہاتھوں ڈالی مدرسہ احمدیہ گئی اور وہ مدرسہ احمدیہ کا قیام تھا۔مولانا جلال الدین صاحب شمس کے زمانہ