حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 299 of 923

حیاتِ خالد — Page 299

حیات خالد 298 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام میں شائع ہوگا انشاء اللہ۔رسالہ کا سالانہ چندہ فلسطین میں چار شلنگ اور دیگر ممالک کیلئے پانچ شلنگ ہوگا۔ہندوستان میں صرف تین روپیہ سالانہ چندہ ہوگا۔لمبے نام کی بجائے اب آئندہ سے رسالہ کا نام ” البشری ہوگا۔تمام احباب سے درخواست ہے کہ اول تو اس رسالہ کیلئے خاص طور پر دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے مستقل نافع للناس اور احمدیت کی اشاعت کا بہترین ذریعہ بنادے۔آمین۔دوم اس رسالہ کی خریداری منظور فرما کر ممنون فرمائیں۔میں اس جگہ ان تمام دوستوں سے جو عربی جانتے ہیں پر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ ضر ور خریدار نہیں۔بالخصوص ہر مولوی فاضل تو کم از کم اس رسالہ کا خریدار ہو۔جو ہم خرما و ہم ثواب کا مصداق ہے۔دوسرے احباب بطور اعانت بھی خریدار بن سکتے ہیں۔سوم۔اس رسالہ کی قلمی امداد فرما ئیں۔یعنی مفید اور دلچسپ مضامین ارسال فرما کر ممنون فرمائیں۔چہارم بعض طالبان حق عربی خوان اصحاب کے پتوں سے آگاہ فرمائیں۔تا کہ ان کو اس رسالہ کے ذریعہ احمدیت کا پیغام پہنچایا جائے۔بہر حال ہمارے احباب کا فرض ہے کہ بلاد عر بیہ میں احمدیت کی تبلیغ کو خاص اہمیت دیں۔خدا تعالی ہم سب کو اس فرض کے ادا کرنے کی توفیق بخشے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلائے“۔الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۳۴ صفحه ۸) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے حیفا فلسطین سے جو عربی رسالہ ”البشری“ جاری کیا اس کے پہلے شمارے کے سرورق سے واضح ہے کہ شوال ۱۳۵۳ھجری بمطابق جنوری ۱۹۳۵ء میں اس کی جلد نمبر ا ء کا شمارہ نمبر ا ، جبل الكرمل حیفا فلسطین سے شائع ہوا۔جس پر ایڈیٹر کا نام اس طرح درج ہے۔ابو العطاء الجالندھری الاحمدی رسالہ ”البشری کے بارہ میں حضرت مولانا نے حیاۃ ابی العطاء“ کے تحت الفرقان میں بھی درج فرمایا۔آپ فرماتے ہیں :- ۱۹۳۱ء میں جب خاکسار بلاد عربیہ کیلئے بطور مبلغ روانہ ہوا تو دل میں ایک عزم یہ بھی تھا کہ وہاں سے با قاعدہ عربی رسالہ جاری کیا جائے۔اس وقت تک حضرت مولانا شمس صاحب مرحوم وہاں پر ہنگامی حالات کے مطابق مختلف مفید کتب اور ٹریکٹ شائع فرماتے رہے تھے۔میں نے چارج لینے کے بعد ان سے اس عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے فرمایا کہ اخراجات کے لحاظ سے مشکل ہوگا۔جب مولانا کی روانگی کے بعد میں نے احباب جماعت سے مشورہ کیا تو وہ سب اس پر تیار تھے اور مالی بوجھ اٹھانے کیلئے آمادہ۔