حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 300 of 923

حیاتِ خالد — Page 300

حیات خالد 299 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے پہلے سہ ماہی رسالہ البشارة الاسلامیہ الاحمدیہ جاری کیا جو تھوڑے ہی عرصہ بعد " البشرعی" کے نام سے ماہوار مجلہ کی صورت میں شائع ہونے لگا۔الحمد للہ یہ البشری آج تک جاری ہے۔ہم یہ رسالہ بعض یہودی اور عیسائی پریس میں طبع کراتے تھے کیونکہ وہاں پر اس وقت مسلمانوں کا پریس نہ تھا۔دل میں بار بار خیال آیا کہ ہمارا اپنا پر لیس ہونا چاہئے۔اخوریم محترم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم سے مشورہ کے بعد قاہرہ سے ایک سیکنڈ ہینڈ پر لیس خرید نے کی تجویز ہوئی۔اب اس کیلئے رقم کا سوال در پیش تھا۔غالبا ۱۹۳۴ء میں جب کہ میں مصر میں تھا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ( حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ) اور صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب مرحوم پہلی مرتبہ سلسلہ حصول تعلیم ایدہ ولایت جا رہے تھے وہ چند گھنٹوں کیلئے قاہرہ میں بھی تشریف لائے تھے۔مجھے خیال پیدا ہوا کہ اس موقعہ احمدیہ پریس کیلئے تحریک کا آغاز کر دینا چاہئے۔چنانچہ میں نے ان دونوں سے اس تجویز کا ذکر کیا ں نے غالباً دو دو پونڈ اس فنڈ میں دیئے۔میں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے احباب جماعت میں لک کی۔چنانچہ ابتدائی فوری ضرورت کے مطابق چندہ اسی موقعہ پر جمع ہو گیا۔اخویم الاستاذ منیر افندی اٹھنی پہلے سے احمدی تھے ان کے بڑے بھائی السید محی الدین ی لطیفہ الحصنی المرحوم جو قاہرہ کے بڑے تاجر تھے میرے وقت میں سلسلہ میں داخل ہوئے تھے اور بہت زندہ دل تھے وہ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔میں نے جب چندہ کی تحریک کی اور احباب نے چندے لکھوانے اور ادا کرنے شروع کئے تو انہوں نے بھی خاصی رقم چندہ کی دی مگر ظرافت طبع کے طور پر کہنے لگے۔یا اُستاذ إِنَّكَ أبو العَطاءِ وَلَكِنَّكَ دَائِمَا تُحَرِّضُنَا عَلَى التَّبَرُّعَاتِ فَلِمَ لَا تُسَمِّي إِسْمَكَ آبَا الاخذ ؟ کہ اے استاذ ! آپ کا نام ابوالعطاء ( عطا کرنے والا) ہے مگر آپ ہمیشہ چندوں کی تحریک کرتے رہتے ہیں آپ اپنا نام ابو الاخذ ( یعنی لینے والا ) کیوں نہیں رکھ لیتے ؟ میں نے ہنتے ہوئے جواب دیا کہ راہ خدا میں مال خرچ کرنے کی تحریک کرنا بھی ایک عطاء ہے اس لئے میرا نام ابو العطا نہ ہی رہنے دیں۔مجلس میں اس سے خوش طبعی کی لہر پیدا ہو گئی۔مرحوم محی الدین احصنی بہت خوبیوں کے ( الفرقان ربوہ۔جون ۱۹۷۱ء صفحہ ۲۵ تا ۲۶) مالک تھے۔رحمہ اللہ۔۱۰ ر ستمبر ۱۹۳۴ء کو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری الحركة الاحمدیہ فی البلاد العربیہ نے ایک مضمون تحریر فرمایا جس کا عنوان ادارہ الفضل نے