حیاتِ خالد — Page 298
حیات خالد 297 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام احمدیت سے لوگوں کو نفرت دلانا اپنا اہم ترین کارنامہ شمار کرتے ہیں۔ان اخبارات کے اعتراضات کے جوابات نیز سلسلہ تبلیغ کو باقاعدہ اور محکم کرنے کیلئے احمد یہ پریس کا ہونا بہت ضروری امر تھا۔پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عربی کتب کی اشاعت تبلیغ کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا حکم رکھتی ہے۔اکثر اصحاب ہم سے حضور کی کتب کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں کہ لیتھو پریس پر ہندی حروف میں وہ کتب طبع شدہ ہیں تو عادتاً ایسی کتابوں کا مطالعہ عام طور پر ان ملکوں کے باشندوں بالخصوص نئے فیشن کے تعلیم یافتہ طبقہ کیلئے مشکل ہوتا ہے پس یہ ایک نہایت اہم اور قومی ضرورت ہے کہ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب عمدہ طور پر طباعت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرے ان دو ضرورتوں کے پیش نظر عربی مطبع کا قائم کرنا ہمارا فرض تھا۔ایک ضرورت تو ساری جماعت احمدیہ سے متعلق ہے اور دوسری ضرورت ایک معنی سے مقامی ضرورت ہے۔سوالحمد للہ کہ اللہ تعالی نے اس فرض کو ادا کرنے کی ایک حد تک توفیق بخشی ہے۔اواخر اگست ۱۹۳۴ء میں میں نے احباب کو پریس خریدنے کے لئے چندہ جمع کرنے کی تحریک کی۔اس وقت تک جب کہ میں یہ سطور لکھ رہا ہوں پچاس پاؤنڈ سے کچھ زائد چندہ جمع ہو چکا ہے۔چندہ دہندگان کی فہرست عنقریب شائع کر دی جائی گی۔ایک سیکنڈ ہینڈ مشین قاہرہ سے خرید لی گئی ہے حروف بالکل نئے خریدے گئے ہیں، سب سامان اس جگہ پہنچ چکا ہے، پریس قائم کرنے کیلئے زمین جماعت احمد یہ کہا پیر نے پیش کی ہے جس پر فی الحال گزارہ کے موافق مکان بنانا شروع کر دیا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالی ان سطور کے شائع ہونے تک پریس کام کرنے کے قابل ہو جائے گا۔حکومت فلسطین کی طرف سے پریس قائم کرنے کی اجازت مل چکی ہے۔پریس کی مشین، حروف اور دیگر اشیاء پر اس وقت تک ستر پونڈ خرچ ہو چکے ہیں۔مکان کے بنانے اور پریس کے درست کرنے کے اخراجات کا اندازہ ۲۵ ،۳۰ پونڈ ہے۔گویا کل لاگت ایک سو پاؤنڈ ہوگی۔اس جگہ کے احباب کے وعدوں کو ملا کر کل رقم چند وہ سے پونڈ ہو جائے گی۔انشاء اللہ باقی رقم کیلئے اگر بعض دوسرے احباب اس کارخیر میں شرکت فرما ئیں تو ان کیلئے دائمی اجر کا موجب ہوگا میں اس سے زیادہ اور کیا کہ سکتا ہوں۔اسی ضمن میں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خاکسار نے فلسطین گورنمنٹ سے باقاعدہ رسالہ جاری کرنے کیلئے اجازت حاصل کر لی ہے اور جماعت ہائے بلا د عربیہ کے مشورہ کے مطابق اب یہ رسالہ ہر قمری مہینہ کی پہلی تاریخ کو ماہوار شائع ہوا کرے گا انشاء اللہ تعالی اور پہلا نمبر اس پروگرام کے مطابق یکم شوال ۱۳۵۳ یعنی اوائل جنوری ۱۹۳۵ء