حیاتِ خالد — Page 169
حیات خالد 175 مناظرات کے میدان میں میں جو ۸ ار مارچ سے شروع ہوا پنڈت رام چندر جی ہمیش چندر جی کو بلا یا مگر صرف پنڈت رام چندر جی آئے۔شہر میں بڑے بڑے پوسٹروں کے ذریعہ دعوت عام دی گئی۔جلسہ کے مقررہ چاروں دنوں میں شن کا سمادھان کے لئے وقت مقرر کیا۔خاکسار اور مولوی عبد القادر صاحب صدیقی دیدوں کے نزول اور روح و مادہ کے متعلق متواتر دو دن پنڈت جی سے سوالات کرتے رہے اور ان کی پہلی تقاریر کے اعتراضات کے جوابات بذریعہ ٹریکٹ دیئے گئے جن کو آریہ سماج کی جلسہ گاہ کے باہر تقسیم و فروخت کیا گیا۔ان کا اثر بفضلہ تعالٰی عموماً عوام الناس پر اور خصوصاً کالج کے طلباء پر نہایت عمدہ پڑا۔جلسہ کے دوسرے دن دھرم بھکشو بھی حیدر آباد وارد ہوئے۔انہوں نے اسلام اور بانی اسلام پر نہایت دریدہ دینی سے حملے کئے۔اسی دن مولوی اللہ و تا صاحب مولوی فاضل بھی تشریف لائے۔ہماری طرف سے مولوی صاحب کے تشریف لانے اور شن کا سمادھان کرنے کی اطلاع مقامی اخبارات میں شائع کرا دی گئی۔۲۱،۲۰ / مارچ کوشن کا سمادھان کے وقت لوگ کافی تعداد میں موجود تھے۔مولوی صاحب نے بقیہ دونوں دن بحثیت نمائندہ انجمن اتحاد المسلمین و یدک دھرم اور تاریخ پر دوز بر دست مباحثات کئے۔پنڈت دھرم بھکشو سوائے اس کے کہ وقت ختم کرنے کیلئے واہی جاہی باتیں کرتے رہے پیش کردہ سوالات کا کوئی جواب نہ دیا۔۲۲ مارچ کو جمشید بال سکندر آباد میں "اسلام عالمگیر مذہب ہے پر مولوی صاحب کی تقریر ہوئی۔چونکہ آریوں کو دعوت دی گئی اور سوالات کیلئے موقع دیا گیا تھا پنڈت دھرم بھکشو صاحب نے سوالات کئے مگر یہاں بھی انہوں نے ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کیا۔جب مولوی صاحب نے از خود نیوگ کا مسئلہ چھیڑا تو دھرم بھکشو نے کہا جس طرح بیٹی غیر کو دینے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح بیوی بھی دیں تو کوئی حرج نہیں۔جلسہ نہایت کامیابی کے ساتھ ختم ہوا۔پنڈت دھرم بھکشو نے احمد ہوں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کیلئے انتہاء درجہ کی اشتعال انگیز تقاریر کیں لیکن خدا کے فضل سے ناکام رہا۔خاکسار منظور احمد داؤدی احمدی الفضل ۱۵ را پریل ۱۹۳۰ء ) حیدر آباد کے اس مناظرہ کا ذکر بعد میں بدر قادیان نے حیدر آباد بدر قادیان میں تذکرہ دکن کی تاریخ احمدیت کے ضمن میں ہوں کیا :- حیدر آباد میں سالہا سال سے آریہ سماج کا سالانہ جلسہ بڑے اہتمام سے ہوا کرتا تھا۔۱۹۳۰ء میں