حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 170 of 923

حیاتِ خالد — Page 170

حیات خالد 176 مناظرات کے میدان میں بانیان جلسہ کی طرف سے یہ صورت کی گئی کہ تبادلہ خیالات کی غرض سے مسلمانوں کو شد کا سمادھان کی دعوت دی گئی۔اس پر مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے جناب ناظر صاحب دعوة وتبلیغ قادیان سے درخواست کی گئی کہ وہ کسی عالم دین کو مسلمانوں کی طرف سے نمائندگی کرنے کیلئے بھجوائیں۔چنانچہ مرکز نے قادیان سے مولانا ابوالعطاء صاحب کو اس غرض سے بھجوایا تھا۔جب مولانا مسلمانوں کے نمائندے کی حیثیت سے آریہ سماج کے جلسے میں پیش ہوئے تو پنڈت دھرم بھکشو نے جو آریہ سماج کے نمائندے تھے کہا کہ تبادلہ خیالات کے لئے مسلمانوں کو دعوت دی گئی ہے۔جواب میں مولانا صاحب نے فرمایا کہ وہ مسلمان ہیں۔کلمہ پڑھتے ہیں، تمام ارکان اسلام پر ایمان رکھتے اور ان تمام شرائط کو پورا کرتے ہیں جو ایک مسلمان کیلئے ضروری ہیں۔اس پر پنڈت دھرم بھکشو نے کہا لیکن مسلمان آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔اس پر مولانا ابوالعطاء صاحب ان علماء کی طرف پلٹے جو آپ کی اطراف میں مسلمانوں کے ایک کثیر مجمع کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ان سے دریافت کیا کہ وہ انہیں کیا سمجھتے ہیں؟ اس پر مولانا سید محمد بادشاہ سلیمی صاحب معتمد علماء دکن نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ وہ مولانا صاحب کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کی تائید شیعہ فرقہ کے مجہتد مولانا سید بندہ حسن صاحب اور تائید مزید فرقہ بواہیر کے مقامی سربراہ مولانا ابوالفتح صاحب نے کی۔اس کے بعد دو گھنٹے تک مولانا ابوالعطاء صاحب اور پنڈت دھرم بھکشو کے درمیان مناظرہ ہوا۔اس کے اختتام پر مسلمانوں کی خوشی اور جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ مسلمان مولانا صاحب سے شرف مصافحہ حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور ہاتھ چوم رہے تھے۔بڑی مشکل سے مولانا صاحب کو جلسہ گاہ سے باہر موٹر تک پہنچایا گیا تھا۔نواب بہادر یار جنگ بہادر اس جلسہ میں موجود تھے اور اپنی صحبتوں میں اس واقعہ کا ذکر تعریفی رنگ میں کیا کرتے تھے کہ مولانا ابوالعطاء صاحب کا یہ کمال تھا کہ اپنے مسلمان ہونے کی تصدیق ہزار ہا مسلمانوں کے مجمع میں علماء سے کروائی تھی۔۱۹۳۱ء میں بھی آریہ سماج نے اسی قسم کی دعوت مسلمانوں کو دی تھی۔پچھلے سال کی کامیابی سے متاثر ہوکر مسلمانوں کی جانب سے اس سال علاوہ مولانا ابوالعطاء صاحب کے حضرت میر قاسم علی صاحب اور مہاشہ محمد عمر صاحب کو بھی قادیان سے بلوایا گیا تھا اور خود وہ پہلے سال سے زیادہ تعداد میں شریک جلسہ ہوئے اور ان کی خوشی اور جوش و خروش کا وہی عالم تھا۔اس دفعہ آریہ سماج کی جانب سے پنڈت رام چندر دہلوی پیش ہوئے اور مسلمانوں کی طرف سے مولانا ابو العطاء صاحب اور مہا شہ محد عمر صاحب۔۱۹۳۱ء کے بعد کے سالوں میں تبادلہ خیالات کے اس سلسلہ کو آریہ سماج نے اپنی مصلحتوں کی بناء