حیاتِ خالد — Page 168
حیات خالد 174 مناظرات کے میدان میں ہے جیسا کہ ایک استاد جب بچوں کو گنتی سکھاتا ہے تو ایک بچے کے ہاتھ میں وہ دس پیسے دیدیتا ہے، دوسرے کو دس روپے ، تیسرے کو دس اشرفیاں اور چوتھے کو دس کنکریاں۔اب چونکہ اصل مقصد گفتی سکھانا ہے اس لئے کوئی ہوش مند شخص نہیں کہہ سکتا کہ کیوں ایک کو پیسے دیئے اور دوسرے کو روپے کیونکہ روپے بھی واپس لے لئے جائیں گے اور کنکریاں بھی۔وہ تو ایک وقت کیلئے محض گفتی سکھانے کی غرض سے دیئے گئے تھے۔غرضیکہ بفضلہ تعالی یہ مناظرہ نہایت کامیابی کے ساتھ ختم ہوا۔آریہ سماجی بھی اپنے مناظر کے جوابات کی کمزوری محسوس کر رہے تھے اور مسلمان بہت خوش تھے۔خاکسار عبدالحمید سیکرٹری تبلیغ نئی دہلی ( الفضل ۲۱ فروری ۱۹۳۰ء) حیدر آباد دکن میں ایک احمدی مبلغ کی شاندار کامیابی آریوں کے مایہ ناز پر چارک دھرم بھکشو کو شرمناک ہزیمت حیدر آباد۲۲ / مارچ مولوی اللہ دتا صاحب نے انجمن اتحاد المسلمین کے نمائندہ تار بنام الفضل کی حیثیت سے آریہ سماج کا چیلنج منظور کر لیا۔عالمگیر مذہب اور تاریخ پر دو " مباحثات ہوئے۔جن میں رسوائے عالم دھرم بھکشو کو جسے لوگ برطانوی ہند کا زہریلا بچھو کے خطاب سے یاد کرتے ہیں سخت ہزیمت ہوئی۔مسلمان ہزاروں کی تعداد میں شامل ہوئے اور سخت اشتعال کے سیکرٹری انجمن اتحاد المسلمین حیدر آباد باوجود پر امن رہے۔الفضل ۲۵ / مارچ ۱۹۳۰ء) اس شاندار کامیابی کی تفصیل بعد ازاں الفضل ۱۵ / اپریل ۱۹۳۰ء میں شائع ہوئی۔ملاحظہ فرمائیے۔یہ رپورٹ مکرم منظور احمد داؤ دی احمدی صاحب نے لکھی۔حیدر آباد میں آریہ سماج ۳۵ حیدر آباد دکن میں آریوں کی شکست اور اسلام کی فتح سال سے قائم ہے لیکن کبھی سماج کو یہ جرات نہ ہوئی کہ غیر مذاہب کی نسبت کچھ کہے لیکن اس سال خصوصیت سے اپنے جلسہ سالانہ سے تقریب ماہ ڈیڑھ ماہ پہلے پنڈت رام چندر جی دہلوی کو حیدر آباد بلا کر متعدد لیکچرز کرائے جن میں دیگر مذاہب پر عموماً اور اسلام پر خصوصاً اعتراضات کئے گئے۔پھر آریہ سماج نے اپنے سالانہ جلسہ کی تقریب