حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 167 of 923

حیاتِ خالد — Page 167

حیات خالد 173 مناظرات کے میدان میں گناہوں سے بچ نہ سکے بلکہ مشاہدہ سے اور ارد گرد کے حالات اور جیل خانوں وغیرہ کو دیکھ کر بھی انسان اپنے تین گنا ہوں سے بچا سکتا ہے۔مولوی صاحب نے فرمایا۔اگر یہ جواب آپ کا صحیح ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ایک انسان جو لا علمی کے زمانہ میں یعنی قبل اس کے کہ اسے اردگرد کے حالات اور جیل خانوں کے مشاہدات کا وقت ملا ہو جو گناہ کر بیٹھے اس کے نتیجہ میں بھی اسے جونوں کے چکر میں پڑ کر ہمیشہ کیلئے مکتی سے ہاتھ دھونا ہوگا۔پس یا تو تسلیم کریں کہ ایسے گناہ پر میشور بخش بھی دیتا ہے ورنہ ماننا پڑے گا کہ انسان کبھی سکتی حاصل نہیں کر سکتا۔(۲) مولوی صاحب نے فرمایا۔اگر یہ اعتقاد بیج ہے کہ جو کچھ اس دنیا میں ملتا ہے وہ پچھلے جنم کے کرموں کا نتیجہ ہے تو آریوں کا سوراج کیلئے شور و غل کرنا عبث ہے۔کیونکہ پچھلے جنم کے کرموں کے نتیجہ میں پر میشور نے انگریزوں کو حاکم بنایا اور آریوں کو محکوم۔اب جب تک ان اعمال کا ثمرہ باقی ہے انگریز حاکم اور آریہ حکوم رہیں گے۔جب ان اعمال کا ثمرہ ختم ہو جائے گا انگریزوں کی حکومت خود بخود جاتی رہے گی۔پس آریوں کا شور و غل کرنا تو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ عمدا پر میشور کے قانون کو توڑنا چاہتے ہیں۔(۳) ایک اور سوال مولوی صاحب نے یہ کیا کہ اگر یہ میچ ہے کہ دنیا میں انسان کو جو دولت اور حشمت ملتی ہے وہ اعمال سابقہ کا نتیجہ ہے تو ماننا پڑے گا کہ کنگ جارج کے اعمال سوامی دیانند کے مقابلہ میں نہایت اعلیٰ اور عمدہ تھے کہ ان اعمال کی بناء پر پر میشور نے جارج پنجم کو بادشاہ بنا یا اور سوامی جی ایک غلام ملک میں پیدا ہو کر تمام عمر غلام رہے اور حکومت کے ارمان ساتھ ہی لے گئے۔پنڈت جی نے کہا۔سوامی جی کو وہ بات حاصل تھی جو بادشاہوں کو پھولوں کے بیج پر بھی نصیب نہیں ہو سکتی یعنی ان کو دل کی راحت میسر تھی۔مولوی صاحب نے فرمایا۔آپ نے ایسی بات کہی ہے جس سے تاریخ کی جڑ خود بخود کٹ جاتی ہے۔اگر آپ کا یہ کہنا درست ہے کہ دل کی راحت کے مقابلہ میں دولت و حشمت کیے ہیں تو یہ واویلا کیوں ہے کہ پر میشور ایک کو دولت مند کے گھر میں پیدا کرتا ہے اور دوسرے کو غریبوں کے گھر میں۔اگر اس غریب کو اپنے ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے میں وہ دل کی راحت میسر ہو جو دولت مند کو اپنے محلوں میں بھی میسر نہ آ سکتی ہو تو پھر تو آپ کو یہ اعتراض نہ ہوگا کہ کیوں پر میشور نے ایک کو غریب پیدا کیا اور دوسرے کو امیر۔پس آپ کی بات سے ہی ثابت ہو گیا کہ روپیہ پیسہ اصل مقصد نہیں۔گوہر مقصود کچھ اور