حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 166 of 923

حیاتِ خالد — Page 166

حیات خالد 172 مناظرات کے میدان میں نکودر موادی اللہ دتا صاحب مولوی فاضل جالندھری ۱۵ نومبر کونکو در۔۔۔بھیجے گئے۔الفضل ۱۹ نومبر ۱۹۲۹، صفحی : کالم نمبر از عنوان مد یہ اسی : جلد ۱۷ نمبر (۴) کلانور ضلع گورداسپور کا مباحثہ اس ماحثہ کی مختصری خبر الفضل میں اس طرح محفوظ ہے:۔۲۴ تا ۲۶ جنوری کلانور ضلع گورداسپور میں جماعت احمدیہ کا جلسہ منعقد ہوا۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اور مولوی اللہ وتا صاحب جالندھری بھیجے گئے چونکہ اہلحدیثوں سے مباحثہ قرار پا چکا تھا اس لئے قادیان سے اور اصحاب بھی وہاں گئے۔الفضل ۲۸ جنوری ۱۹۳۰ صفحه از سرعنوان همه به اسیح) اس مناظرہ کی تفاصیل الفضل کے حوالے سے میرٹھ میں آریہ سماج سے تناسخ پر مناظرہ ذیل میں درج ہیں۔آریہ سماج میں تھانے اپنے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر آٹھ اور نو فروری (۱۹۳۰ء) کو ہمیں مناظرہ کیلئے وقت دیا جس کے لئے جناب ناظر صاحب دعوت و تبلیغ قادیان نے ہماری درخواست پر جناب مولوی الله و تا صاحب مولوی فاضل کو بھیجا اور کچھ احباب دہلی سے میرٹھ پہنچے۔مولوی صاحب نے اپنی تقریروں میں نہایت وضاحت کے ساتھ مسئلہ تناسخ کا ابطال کیا اور چند سوالات کئے جن کا کوئی معقول جواب آریہ سماجی مناظر آخر تک نہ دے سکا۔احباب کے فائدہ کی غرض سے وہ سوالات اور آریوں کے جوابات مختصر اذیل میں تحریر کئے جاتے ہیں۔۔(۱) مولوی صاحب نے فرمایا۔سوامی دیانند نے ویدوں کے پڑھنے کی میعاد ۴۸ سال مقرر کی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس عرصہ میں انسان سے جو گناہ سرزد ہوں گے انہیں پر میشور بخش تو سکتا نہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان مختلف جونوں میں پڑے گا اور جب اس چکر سے چھوٹ کر انسانی قالب میں آئے گا تو دیدوں کے پڑھنے کے لئے پھر ۴۸ سال کی میعاد ضروری ہوگی۔اب اس عرصہ میں جو گناہ اس سے سرزد ہوں گے ان کے نتیجہ میں اسے پھر جونوں کے چکر میں جانا ہوگا۔اس طرح جب کبھی بھی وہ انسانی قالب میں آئے گا اس کا وہی حشر ہوگا جو پہلے ہوا۔نتیجہ یہ کہ کبھی بھی اسے مکتی نہ مل سکے گی۔پنڈت جی نے جواب میں فرمایا۔کہ یہ ضروری نہیں کہ جب تک ایک انسان دید نہ پڑھ لے