حیاتِ خالد — Page 158
حیات خالد (1) غیر معمولی کثرت امور غیبیہ (۲) بکثرت شرف مکالمه و مخاطبه (۳) خدا کی طرف سے نبی کا نام پانا 164 مناظرات کے میدان میں یہ حضور کی نبوت کے اجزاء ہیں جو کسی محدث میں نہیں پائے جاتے۔اس لئے معلوم ہوا کہ حضور محدث نہیں بلکہ نبی ہیں۔آپ نے اپنے آپ کو اس وقت زمرہ محدثین میں شامل رکھا جب تک حضور نبی کیلئے شریعت لانا وغیرہ ضروری سمجھتے تھے۔لیکن جب حضرت احدیت سے اس بارہ میں انکشاف ہو گیا حضور نے صرف نبوت کو پیش کیا۔بلکہ محد ثیت کا انکار کیا ہے اس ضمن میں متعدد بار حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۱ کے حوالہ کو فیصلہ کن مظہر دیا گیا۔مگر جناب میر صاحب نے مطلقا توجہ نہ فرمائی۔کیا پیغام صلح" کا نامہ نگار بتا سکتا ہے کہ میر صاحب نے کوئی جواب دیا تھا ؟ اُمتی نبی ایک پہلو سے اُمتی اور ایک پہلو سے نبی ، کے میں نے کئی جواب دیئے تھے۔اوّل: اگر وہ محدث ہی ہوتا ہے تو حضور نے کیوں فرمایا ؟ اس اُمت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو اُمتی بھی ہے اور نبی بھی۔صلى الله (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰ حاشیه ) اب یا تو یہ مان لیجئے کہ ایک پہلو سے امتی اور ایک پہلو سے نبی محدث سے بلندشان رکھتا ہے۔محدث ہی نہیں ہوتا یا پھر یہ کہئے کہ اُمت میں کوئی محدث گزرا ہی نہیں کیونکہ ایسا تو ایک " ہے۔دوم: آپ کی مثال کے مطابق امتی اور نبی کی اجتماعی حالت چھاچھ کی طرح ہوئی گویا نہ نبی اور نہ امتی۔تو کیا آپ مانتے ہیں کہ حضرت صاحب امتی نہ تھے۔جیسے چھاچھ نہ پانی ہے نہ دودھ۔ایسا ہی امتی اور نبی نہ نبی ہوگا نہ اُمتی۔العیاذ باللہ سوم : قرآن میں ہے هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُول میں صرف بشر رسول ہوں۔یعنی بشر بھی ہوں اور رسول بھی وبس۔تو کیا اہل پیغام یا چھا تبھی تسلیم کریں گے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ رسول تھے نہ بشر۔ہاں اجتماعی حالت " چھاچھا تھی۔نعوذ باللہ۔اخیر پر اُمتی نبی کے معنی حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۷ ۲۸ سے پیش کئے کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع میں نبی یا بالفاظ دیگر غیر تشریعی نبی۔