حیاتِ خالد — Page 159
حیات خالد 165 مناظرات کے میدان میں اگر میر صاحب یا ان کے رفقاء نے اب بھی کوئی معقول بات سوچ کی ہو تو پیش کریں۔ہاں ظلی نبی کے معنوں میں اس حوالہ نے پیغامی مناظر کا تارو پود بکھیر دیا۔” سچے پیرو اس کے (قرآن مجید کے ) خلی طور پر الہام پاتے ہیں ( تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۹۶) پس اگر ظلی نبوت ، نبوت نہیں۔تو ظلی الہام الہام نہیں۔نعوذ باللہ اس بحث میں حضرت اقدس کے ۲۰ حوالہ جات کے علاوہ مولوی محمد علی صاحب کے بھی متعدد اعلانات سنائے گئے۔جن میں اقرار نبوت تھا اور پیغام صلح جلد اوّل سے بھی حلفیہ بیانات پڑھے گئے۔جن سے پلک پر ایک سناٹا چھا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ دعائیہ جملہ باطل کے کچلنے میں بے نظیر عصا ثابت ہوا کہ ”اے قادر اور کامل خدا جو ہمیشہ نبیوں پر ظاہر ہوتا رہا ہے اور ظاہر ہوتا رہے گا یہ فیصلہ جلد کر اور ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۲ حاشیه ) ان لاجواب حوالہ جات کے بالمقابل میر صاحب کھسیانی بلی کی طرح غیر احمدیوں کی حمائت حاصل کرنے کیلئے بے تحاشا کہنے لگے مدعی نبوت کذاب ، دجال اور ملعون ہے وغیرہ وغیرہ۔اور اسی لمحہ حضرت صاحب کو مدعی نبوت ماننے کا اعتراف بھی کرتے تھے۔اس پر غیر احمدیوں نے تالیاں بجائیں۔آپ نے سمجھا کہ شاید یہ دادل رہی ہے اور ان کے صدر نے ہماری دشمنی کے لئے کہدیا " تالیاں ایک فطری شئے ہے اور یہ رک نہیں سکتیں جب میں نے بتایا اس قانون میں تو آپ نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑا مارا ہے تو کچھ شرمندہ سے ہو گئے اور پہلی خوشی کا فور ہوگئی۔پھر انہیں بتایا حضرت صاحب نے یہ الفاظ اس مدعی نبوت کیلئے استعمال کئے ہیں جو قرآن کو منسوخ کرے اور نیا کلمہ بنائے۔ملاحظہ ہو انجام آتھم۔اس لئے ان کو بے محل استعمال کر کے دونوں جہان کی لعنت نہ حاصل کریں۔الحمد لله ثم الحمد للہ کہ اس مباحثہ کا بہت اچھا اثر ہوا جس کا اظہار غیر احمد یوں بلکہ غیر مباکھین تک نے کیا اور مناظر ختم ہو گیا۔جماعت احمدیہ نے اسی باغ میں نماز مغرب پڑھی اور خدائے واحد کا شکر ادا کیا۔اس مناظرہ کے بعد ہماری موجودگی تک کسی نے پبلک سے فیصلہ طلب نہ کیا تھا اور نہ ہی اس کا ذکر ہوا۔یہ سراسر افتراء ہے بعد کے چند پیغامیوں سے کہلوالیا گیا ہو تو اس کا ہمیں علم نہیں مگر یہ تو اپنے منہ سے میاں مٹھو بننے