حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 157 of 923

حیاتِ خالد — Page 157

حیات خالد 163 مناظرات کے میدان میں " سید مدثر شاہ صاحب کی اس معقول اور مبنی بر تحریرات حضرت صاحب تشریح کے جواب میں مولوی اللہ دتا صاحب لفظ نبی بار بار پیش کرتے رہے مگر لفظ نبی کے معنوں کی طرف ذرا توجہ نہیں کی۔سچ ہے۔پیغامی باش خواهی کن ہرچہ اگر ہمیں خوف طوالت نہ ہوتا تو ہم اس تقریر کو مفصل درج کرتے مگر اب صرف مختصر جوابات درج کرتے ہیں جن کا اخیر تک کوئی جواب نہ دیا گیا۔بعے کوئی بتلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے میر صاحب کی تقریر میں یہ اقرار موجود ہے کہ حضور نے نبوت کا دعوی کیا اور ہم بھی حضور کو نبی مانتے ہیں مگر بمعنی "محدث" نہ اس سے زیادہ۔کیونکہ حضور نے محدث سے بڑھ کر کبھی اپنے آپ کو پیش نہیں کیا۔اگر حضور کی تحریر سے ثابت ہو جائے کہ آپ نے محدثوں سے بالاتر اپنا مقام بنایا ہے تو معاملہ صاف ہے یا نہیں لیجئے حضرت کا ارشاد ہے۔جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں نبوت مسیح موعود کا ثبوت سے گذر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کی اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۶) اب اس جگہ نبی کی بجائے لفظ محدث رکھ کر پڑھیں اگر عبارت درست ہو تو آپ بچے ورنہ جھوٹے۔نیز غلطی کا ازالہ سے محدثیت کا انکار اور نبوت کا اثبات دکھایا گیا اور نبی کے حقیقی معنے کیلئے سراج منیر صفحہ ۳ پیش کر کے بتایا کہ حضور کو صاحب شریعت نبوت سے انکار تھا اور رہا۔مگر غیر تشریعی نبوت کا نہ انکار تھا اور نہ ہوا۔باقی نبی کیلئے شریعت لانا یا کسی متبوع کا تابع نہ ہونا شرط نہیں۔( بحوالہ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۶) پھر میں نے اسلام کی اصطلاح میں نبی کی تعریف (لیکچر سیالکوٹ ) نبیوں کی متفق علیہ تعریف ( الوصیت صفحہ ۱۲) خدا کی مقرر کردہ تعریف (چشمہ معرفت صفحه ۳۲۵) کے حوالہ جات پیش کر کے حضور کی نبوت کو واضح کیا اور بتایا۔