حیات بشیر — Page 509
509 نوحۂ غم محترم جناب آفتاب احمد صاحب بسمل کراچی) اک اور ستاره ڈوب گیا اک اور سنتے ہی وحشت ناک خبر اک ہوک سی دل میں اٹھتی ہے آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہے وہ قسمت نے دیا ہے جو ہونا تھا وہ چر کا ہو کے رہا اک تیر لگا محبوب گیا سینے پر اک میں جگر میں پڑتی ہے منه کو کلیجہ آیا ہے پھر ہو گیا دل کا زخم ہرا جا نبیوں کا وہ چاند چھپا منہ موڑ کے ہم بے چاروں سے اللہ کی گود میں جا بیٹھے گئے شیدائی کچھ بات نہ اُن سے بن آئی تکتے ره اک روز سبھی کو مرنا ہے اور راہ فنا طے کرنا ہے موت سے آخر کس کو مفر ایک کو کرنا ہے پر ایسی ہستی کا ہے سفر سارے عالم کا چھلنی مرنا نقصان ہے سینہ ہر ایک کی آنکھیں ہیں گریاں اس جان جہاں کے جاتے ہی اداسی چھائی ہے ہر دفتر ہے محفل 6 دل بریاں ہو گئی سونی سی ہر اک شیدائی ہے اور نگران بورڈ ہے نوحہ کناں سونا درویشاں الله تو اپنی رحمت ہم ہمت دے (الفرقان قمر الابنبیاء نمبر صفحه ۲۴)