حیات بشیر — Page 503
503 کھلیں کیا قہر ہے کہ نالہ بلبل پہ گل نہیں شبنم کے آنسوؤں یہ شگوفے غضب گلشن میں سرو قمری کی فریاد پر تنہیں بے لطف ہو رہی ہیں زمانے کی صحبتیں دنیائے دُوں کو جی میں ہے آتی کہ چھوڑ دوں منہ خانماں سے موڑ کے جنگل میں جا بسوں کٹیا مری ہو کاخ وجاہت میرے لئے ہو فرش خاک بستر راحت مرے لئے کمبل مرا ہو موجب زینت مرے لئے نیچر کے سین ہوں پئے وحدت مرے لئے جا دل میں ہو نہ فکر کم و بیش کے لئے ہو چاند شمع خانه درویش کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ کے وصال محترم جناب عبدالحمید خاں صاحب شوق۔لاہور ) پر اے وائے پسر مہدی آخر زماں گیا اس خاکداں کو چھوڑ کر خلد آشیاں گیا ده نکتہ داں محقق وہ ذکر حبیب راہ داں گیا وہ راہرو، وہ پیکر لطف بیاں گیا و مرد خدا شناس وہ رہنما دلار با خطاب شیریں دہاں صد حیف پر وہ وہ جس کے لفظ لفظ ہوتے تھے ہم شار پر وہ دست راست اپنے امام ہمام کا وہ وہ مقرر جادو بیاں گیا ملت کا جال شار وہ رحمت نشاں گیا شب زنده دار مومن و تقوی شعار مرد دنیائے دُوں سے سُوئے خدا شادماں گیا فرقت میں اس کی آج تک ہوں اشکبار شوق وہ اہل دل، وہ مرد مجاہد کہاں گیا (الفرقان قمر الانبیاء نمبر صفحه ۲۲)