حیات بشیر

by Other Authors

Page 502 of 568

حیات بشیر — Page 502

502 آه! قمر الانبياء! (حضرت مولوی برکت علی صاحب لائق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابق امیر جماعت احمد یہ جڑانوالہ ضلع لائکپور ) کیونکر گذرتی ہے دل نالاں سے پوچھ لے یعقوب کا الم مہ کنعاں سے پوچھ لے وحشت کی میرے چاک گریباں سے پوچھ لے چھالوں کا حال خار مغیلاں سے پوچھ لے اک بندہ حقیر کو رحمت سے پوچھ لے میں کیا کہوں تو اپنی عنایت سے پوچھ لے وہ قمر الانبیاء میرے دل کا سرور تھا دل کا سرور تھا مری آنکھوں کا نور تھا حق کا ظہور سایہ رب غفور تھا آنکھوں کا نور رحمت حق کا ظہور تھا اس کے بغیر رنج و غم اضطراب ہے آنکھوں میں خواب ہے نہ میرے دل کو تاب ہے بدلی میں چاند چھپ گیا اندھیر چھا گیا دست اجل فراق کے کانٹے بچھا گیا بیداد چرخ دن کو ہی تارے دکھا گیا دامان صبر ہاتھ سے دامن چھڑا گیا داغ جگر سے دل کے پھپھولے چمک اٹھے اور آنسوؤں سے آگ کے شعلے بھڑک اُٹھے وہ ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی وہ قمر انبیاء ٹھنڈک دلوں میں جس سے تھی آنکھوں میں تھی ضیاء عرفان و معرفت کی وہ دنیا بسا گیا اُف! مرگ ناگہاں نے یہ نقشہ بدل دیا چشمے غموں کے دل بلبلے بنا کے درد کے ہوا کے دریا بہا دیئے میں اُڑا دیئے پروانے ہیں چراغ سے دُور اور شکستہ پر سوز دروں سے جل گیا ہر سوختہ جگر ہر گل ہے چاک پیرہن اس غم میں سربسر اک عندلیب زار ہے منقار زیر پر دنیا بدل گئی وہ زمانہ نہیں رہا اب دل ہمارا محو ترانہ نہیں رہا