حیات بشیر

by Other Authors

Page 504 of 568

حیات بشیر — Page 504

504 آه ! حضرت میاں بشیر احمد صفی اله من الراحه رضی (محترم جناب میر اللہ بخش صاحب تسنیم تلونڈی راہوالی) آه وہ دو ستمبر اور سن تریسٹھ کی تھی مغموم شام ہو گیا جب چاند نبیوں کا زمانے سے جدا بجھ گئی اک اور شمع بزم ام المومنین مہدی موعود کا نور نظر جاتا رہا وجہ تسکین دل بیتاب تھی جس کی چمک وہ رُخ پر نور اب نظروں سے اوجھل ہو گیا جس کے خدو خال میں روشن تھا حسن لازوال مٹ گئی دنیا سے وہ تصویر زہد و اتقا مظہر نور تقدس آہ ! وہ روشن جبیں آه یچی نگاہیں آئینہ دار حیا کیا ٹھکانہ اس کی شان ارفع و اعلیٰ کا ہے جس کو اپنا نور کہہ کر یاد فرمائے خدا یدنی منک الفضل“ کا مصداق از سرتابه پا جس کا الہامات ربانی میں آیا تذکرہ ہو گیا غائب جہاں سے بحر بے پایاں علم روح کے سیراب ہونے کا وسیلہ مٹ گیا عاشق زار رسول و تابع حکم امام عشق گھٹی میں تھا جس کی مہدی موعود کا دے گی اب ڈھارس ہمیں کس کی دعائے نیم شب کس کی غمخواری بڑھائے گی ہمارا حوصلہ بزم ہستی میں کوئی مأمن نظر آتا نہیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں اب ٹوٹے ہوئے دل آسرا کائنات آرزو ہوگئی ظلمت محیط موت نے گل کر دیا امید کا روشن دیا کون دے گا درس اب آکر محبت کا ہمیں کون اب ہم کو کرے گا بادۂ عرفاں عطا اے میرے بیمار آقا اے امیر المومنين بوجھ کون اخلاص سے آکر بٹائے گا تیرا کون اب آکر سنائے گا ہمیں ذکر حبیب کان بیکل ہیں وہ سننے کیلئے شیریں صدا گل سرافگندہ ہیں ماتم میں ہوا خاموش ہے پر آه ! اب وہ طائر رنگین نوا خاموش ہے ( مصباح قمر الانبیاء نمبر صفحه ۲۸)