حیات بشیر — Page 491
491 خیال تو تمہارے پیو کا بھی یہی ہے اور نورالدین کا بھی والله اعلم بالصواب۔اب ہم سوچ میں ڈوب گئے۔باقی تو کچھ پلے پڑ گیا مگر یہ پیڈ سمجھ میں نہ آیا۔آخر کسی دوست نے بتایا کہ پنجابی میں ”پیو باپ کو کہتے ہیں۔تب ہم تہہ کو پہنچے۔حضرت قمر الانبیاء نے یہ سنا تو تبسم فرمایا اور ہم سیر ہو گئے۔“ ہے اب ہم حضرت حافظ صاحب مدظلہ العالیٰ کے وہ اشعار درج کرتے ہیں۔جن کا اوپر عنوان دیا گیا ہے۔یعنی گریہ، بے اختیار۔کھلا کریں جو کھلے ہیں چمن میں لالہ وگل ہوا کرے جو نسیم بہار باقی کیا کریں سر شمشاد قمریاں گو گو رہا کرے جو نوائے ہزار باقی ہے کے دماغ سے کون ذکر بلبل و گل کہاں سکون دل داغدار باقی ہے مری نگاہ میں تاریک ہو گیا عالم نظر سے چھپ گئی ہر شے غبار باقی ہے ہے نہ تاب ضبط الم ہے نہ طاقت فریاد نہ سر میں ہوش نہ دل میں قرار باقی نہ مرے بس میں رہی میری چشم اشک فشاں نہ دل پر آج مجھے اختیار باقی ہے فدائے دیں قمر الانبیاء نے پائی وفات جہان عشق میں جن کا وقار باقی ہے ہزار حیف کہ راہی ہوئے وہ سوئے عدم جو کل تھے باعث تسکین غم کشاں نہ رہے ہزار حیف کہ بے قرار اشکبار باقی ہے زار و نزار باقی ہے ہے وہ چل دیئے جنہیں تھا درد خستہ حالوں کا دل فگار یہ غم کا شکار باقی غفلت شعار باقی ہے یہ شرمسار یہ جو محو خدمت دیں تھے وہ محو خواب ہیں آج نگاہیں ڈھونڈھ رہی ہیں وہ شہسوار کہاں غبار ہے کہ پس راہوار باقی ہے یہ کوہ صدمہ وغم اور یہ ضعیف و نحیف قضاء کو آنے میں کیا انتظار باقی نزول رحمت آمرزگار باقی ہے لیکن، ابتلائے مقدر تو آچکا درد جس نے دیا ہے دوا وہی دیگا یہی یقین یہی انتظار باقی ہے ہے محترم عبدالشکور صاحب ریڈیو الیکٹرک سنٹر ملتان چھاؤنی کی روایت میں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی طرف منسوب کر کے جو پنجابی کے الفاظ درج کئے گئے ہیں ان کے بارہ میں محترم مولانا محمد یعقوب صاحب فاضل انچارج صیغہ زود نویس فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حافظ صاحب مدظلہ العالی سے اصل الفاظ دریافت کئے تو آپ نے وہ الفاظ بتائے جو اوپر درج ہیں۔(مؤلف)