حیات بشیر — Page 490
490 گر یہ بے اختیار بیاد قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ) (از حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاه جهانپوری) حضرت حافظ صاحب وہ خوش قسمت بزرگ ہیں جن کے بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد رضی اللہ عنہ خود چل کر ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور حضرت حافظ صاحب بھی آپ کی آمد کی قدر و قیمت کو خوب سمجھتے تھے۔اور اس سے حظ بھی اٹھایا کرتے تھے۔حضرت میاں صاحب کے وصال کے بعد ایک مرتبہ آپ نے حضرت میاں صاحب کے ایک پرانے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں تو حضرت کی دلفریب مسکراہٹ کا دیوانہ تھا کوشش کر کے ایسی بات کرتا کہ آپ مسکرا دیں اور میں بے خود ہو جاؤں۔کیونکہ آپ کی مسکراہٹ میں مجھے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی مسکراہٹ کی جھلک نظر آتی تھی۔مجھے خوب یاد ہے۔ایک مرتبہ حضرت میاں صاحب احمد یہ چوک قادیان میں چند خدام کے ساتھ کھڑے تھے۔یہ خادم بھی ذراہٹ کر کھڑا تھا۔میں نے محسوس کیا کہ حضرت نے دو تین بار گوشئہ چشم سے میری طرف دیکھا۔میں سمجھ گیا کہ کچھ ارشاد فرمانا چاہتے ہیں۔میں قریب ہو ہو گیا۔فرمایا ”حافظ صاحب! آپ کی عمر کتنی ہوگی میں تو جب سے یاد پڑتا ہے آپ کو ایسا ہی دیکھتا چلا آیا ہوں۔میں نے عرض کیا حضور! عمر کا اندازہ تو یوں فرمالیں کہ اس غلام نے اپنے آقا ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اسی جگہ جہاں آپ کھڑے ہیں۔تین چار سال کی عمر میں کھیلتے دیکھا ہے کہ اتنے میں حضرت حکیم الامت حضرت مولانا نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے۔آپ اکڑوں بیٹھنے کے خلاف تھے مگر فرط محبت بے ساختہ زمین پر اکڑوں بیٹھ گئے اور بازوؤں میں حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کو لے لیا اور فرمایا ”میاں! آپ کام کاج تو کچھ کرتے نہیں۔سارا دن بس کھیلتے ہی رہتے ہیں۔“ کس شوکت سے میرے امام نے جواب دیا۔”جب ہم بڑے ہوں گے تو ہم بھی کام کریں گے۔“ حضرت حکیم الامت تو جیسے یہ سن کر کہیں کھو گئے اور فرمایا: