حیات بشیر — Page 492
492 ہے فکر تھی کہ انہیں پر تھا بار خدمت دیں اُسے اٹھائے گا کون اب جو بار باقی ندائے غیب یکا یک یہ دل میں گونج اُٹھی کہ وہ مُسبب ذوالاقتدار باقی ہے اس کے ہاتھ کا یہ سلسلہ تھا اک پود جو صورت ہے ہے شجر سایه دار باقی اسی نے اس کو بڑھایا وہی بڑھائے گا اسی کے لطف سے اس کی بہار باقی سمجھ رہی تھی جسے خلق ایک ذرۂ خاک وه مثل تیر نصف النہار باقی ہے اُسی کے فضل سے اس کو عطا ہوا ہے وقار اسی کے فضل سے اس کا وقار باقی ہے اُسی نے اس کو نوازا وہی نوازے گا کہ وہ جو چاہے کرے اختیار باقی ہے انحصار نہیں کہاں ہستی ناپائیدار باقی ہے خدا کے کام کا بندے پر بقا کسی کو نہیں ساری خلق ہے فانی بس ایک خالق و پروردگار باقی ہے ہے ازل سے ہے یہی حال اس سرائے دنیا کا کوئی گیا تو کوئی سوگوار باقی ہے یہاں نہ کوئی رہا ہے نہ رہ سکے گا کوئی غلط کہ زندگی مستعار باقی ہے جولوگ اگلے زمانوں میں تھے کہاں ہیں وہ آج کوئی نبی نہ کوئی شہر یار باقی ہے اسی طرح روش روزگار تھی پہلے اسی طرح روش روزگار باقی ہزار جائیں یہاں سے تو لاکھ آتے ہیں نہ اُن کی حد ہے نہ اُن کا شمار باقی ہے اس آنے جانے میں کوئی بھی روک ٹوک نہیں دور مثل خزاں و بہار باقی ہے یه طرز آمد و رفت ابتداء سے آخر تک سے بحکم حضرت پروردگار باقی ہے جو اُس جہان سے آتے ہیں وہ تو جاتے ہیں اس میں شک، نہ کوئی اعتذار باقی ہے جو اس جہان سے جاتے ہیں وہ نہیں آتے عبث ہے اُن کا اگر انتظار باقی ہے نہ آج تک کوئی آیا نہ کوئی آئے گا نہ تھا کسی کو نہ یہ اختیار باقی ہے نہیں اور کوئی چاره کار یہی علاج دل بے قرار باقی ہے یہ جانتا ہوں مگر مطمئن نہیں دل زار مانتا ہوں مگر اضطرار باقی ہے کسی طرح نہیں جاتی خلش نہیں جاتی وہی تڑپ ہے وہی انتشار باقی ہے جب اُن کا ذکر ہوا سیل اشک اُمنڈ آیا سلسلہ ہے کہ لیل ونہار باقی ہے میں روکتا تو ہوں رُکتے نہیں مگر آنسو ڑکیں بھی کیا کہ دل بیقرار باقی شکیب و ضبط و تحمل سب ان کے ساتھ گئے سوائے صبر یہاں تو گریہ بے اختیار باقی ہے ہے تمام مگر نا تمام (الفرقان قمر الانبیاء نمبر صفحه ۶۲-۶۳)