حیات بشیر — Page 489
489 کون جی میرا آج بہلائے“ از حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلها العالی) کون جی میرا آج بہلائے کس کو دل داغ اپنے دکھلائے بتا کہاں ہیں وہ دل مضطر انہیں کہاں پائے راہبر خضر ہم تو اسی کو جانیں گے جو ہمیں دلربا آئی سے ملوائے سے گل کھلے ہیں بہار ہے کاش ایسے میں وہ بھی آجائے ہے جنہیں نظر میری سب تو آئے ، وہی نہیں آئے ڈھونڈتی یہ مری آہ کا اثر تو نہیں عرش کے ہل رہے ہیں کیوں پائے ہم تو دل دے کے جان سے اپنی کوئے جاناں میں ہاتھ دھو آئے زندگی ہو جسے عزیز بہت وہ نہ مرنے کی دل میں ٹھہرائے اب تو بیٹھے ہیں گوش بر آواز چاہے جس وقت یار بلوائے (الفضل سالانہ نمبر ۱۹۶۳ء)