حیات بشیر — Page 483
483 درجه منقش ہوتے اور بجائے گالیوں کے اس مقدس انسان پر درود اور سلام بھیجا جاتا۔اب بھی وقت ہے کہ اپنی پچھلی سنتی کا کفارہ ادا کرو۔اپنی غفلتوں کو ترک کرو۔اور اس دروازہ کی طرف دوڑو جس کے سوا تمہارے لئے کہیں پناہ نہیں اور ایک پختہ عہد اور نہ ٹوٹنے والا اقرار اس بات کا کرو کہ تم اپنے مال اور اپنی جانیں اور اپنی ہر ایک چیز اشاعت اسلام کے لئے قربان کرنے پر تیار رہو گے اور اس مقدس فرض کی ادائیگی کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دو گے۔یہی وہ سچا اور حقیقی جواب ہے جو غیر مسلموں کے مقابلہ میں ہماری طرف سے دیا جا سکتا ہے۔یہ امر یاد رکھو کہ ہماری عزت ہمارے اعلیٰ کے لباسوں اور بڑی بڑی جائیدادوں میں نہیں ہے۔یہ لباس تو چوڑھے اور چمار بھی پہن لیتے ہیں اور بڑی بڑی جائیدادیں پیدا کر لیتے ہیں۔ہماری عزت اس میں ہے کہ ہم اپنی زندگیاں محمد رسول اللہ علی کی تعلیم کے مطابق بنائیں اور دن رات آپ کے پیغام کی اشاعت کریں تاکہ ہماری شکلوں کو دیکھ کر ہی لوگ پکار اُٹھیں کہ یہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ہیں اور ان کی موجودگی میں محمد رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے۔دشمن اس لئے حملہ کرتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ علیہ کو نعوذ باللہ ابتر خیال کرتا ہے لیکن اگر اسے معلوم ہو کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنی ساری جان اور اپنے سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اس پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی فدا ہے تو پھر اس کی کیا طاقت ہے کہ وہ آپ پر حملہ کر سکے۔پس تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کرو اور اسلام کی اشاعت پر زور دو تا کہ وہ لوگ جو محمد رسول اللہ اللہ کو برا بھلا کہتے ہیں وہ آپ پر درود اور سلام بھیجنے لگیں۔مکہ کے لوگوں کی گالیاں آخر کس طرح دور ہوئیں۔اسی طرح کہ وہ اسلام کو قبول کر کے محمد رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے لگے۔پس اب بھی یہی علاج ہے اور یہی وہ تدبیر ہے جس سے ہر شریف الطبع انسان اسلام کی خوبیوں کا قائل ہو جائے گا اور ہر شریر الطبع انسان مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر مرعوب ہو جائے گا۔میں امید کرتا ہوں کہ تمام جماعتوں کے امراء اور سیکرٹریان اس تحریک کے پہنچتے ہی اپنے اپنے علاقہ کے احمدیوں کو پوری طرح اس میں حصہ لینے کی تلقین کریں گے اور