حیات بشیر

by Other Authors

Page 481 of 568

حیات بشیر — Page 481

481 تھا۔جس کو اب اس کے خالق نے اپنی جنت اعلیٰ کے لئے پسند کرلیا۔ہم اس کی رضا پر راضی ہیں مگر جب تک زندہ ہیں، یاد کرینگے۔خدا تعالیٰ ہم کو اس یاد کے ساتھ ان کے لئے بلندی درجات کی دعا کی توفیق دیتا رہے۔خاص اپنے فضل و کرم سے اور ہماری دعاؤں کا ہدیہ اُن کو بلندیوں تک پہنچتا رہے۔آمین مبارکہ ۲۸ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے اس مختصر سے نوٹ میں اپنے منجھلے بھائی صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کی طبیعت ، کارناموں ، اطاعت امام اور خدمت خلق کا ایک مجمل سا نقشہ کھینچ کر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے اور ہمیں دعوت دی ہے کہ اگر ہم احمدیت کے پودے کو سر سبز اور بارآور دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس زندہ جاوید شخصیت کی خوبیوں کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی کا رد عمل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ذات پر کیا اثر پڑا؟ یہ ایک سوال ہے جس کے جواب کے متعلق ہم میں سے ہر شخص کو غور کرنا چاہیے۔ظاہر ہے کہ حضرت میاں صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے چھوٹے بھائی تھے۔نہایت ہی عزیز، حد درجہ کے فرمانبردار ، آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے والے اور آپ کے مقاصد کی تعمیل کے لئے جان تک فدا کرنے والے ، ایسے جاں نثار بھائی ساتھی اور فدائی کی جدائی کوئی معمولی بات نہیں تھی! اس بھائی کی وفات پر آپکی طرف سے کسی بیان کا جاری نہ ہونا کچھ معنی رکھتا ہے! میرے دل میں بھی یہ سوال پیدا ہوا تھا اور میں حیران تھا کہ اگر کوئی سوال کر بیٹھے تو اسے کیا جواب دوں گا۔خدا بھلا کرے۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کا کہ انہوں نے مشرقی پاکستان کے کسی جلسہ میں اس سربستہ راز کی نقاب کشائی کی۔آپ نے فرمایا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات کا سب سے زیادہ غم اگر کسی شخص کو ہو سکتا تھا تو وہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ذات تھی مگر آپ اس غم کو پی گئے اور چند دن کے اندر اندر ہی آپ نے جو تازہ پیغام جماعت کے نام دیا۔وہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ جس مقصد کے لئے آپ کے اس بھائی نے کام کرتے کرتے اپنی جان تک قربان کر دی۔جماعت کو بھی چاہیے کہ اس مقصد کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دے کہ اسی کام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ