حیات بشیر — Page 480
480 تو صاف کہہ رکھا ہے۔اگر یہ جڑھ رہی سب کچھ رہا ہے۔“ پس بیچ بیچ کے چلو۔بیچ بیچ کے چلو۔ڈر ڈر کر قدم اٹھاؤ۔نیکی میں ترقی کرو۔دنیا دیکھ لے۔اور سمجھ لے کہ یہ پھل جس درخت کے ہیں وہ کیسا نہ ہو گا تم اللہ کے بن جاؤ تم سب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں ہزار گنا ہوکر لگیں گی۔تم ایک قدم بڑھاؤ گے تو خدا تعالیٰ اپنی رحمت سے ہزار قدم بڑھائے گا۔حضرت منجھلے بھائی کے جانے سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے اس کو ہر ایک پر کرنے کی کوشش کرے جو بوجھ وہ اتار چکے تم اٹھاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا قدرت ثانی کا سلسلہ شروع ہوا۔مگر خلافت اولیٰ کے وقت سے ہی میرے بھائیوں نے اپنا فرض اولین جان کر خدمت دین کے لئے اپنے شب و روز وقف کر دیئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمام زمانہ کیلئے رحمت تھے۔کیونکہ آپ سچے عاشق وخادم رحمۃ اللعالمین تھے۔آپ تمام جماعت بلکہ تمام مخلوق کے لئے باپ اور ماں کی مشترکہ محبت رکھتے تھے۔باپ کی طرح تربیت بھی تھی سختی اور نرمی بھی اور ماں کی طرح نرمی اور محبت ، مامتا کی طرح کا پیار بھرا سلوک بھی۔آپ کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ دونوں بھائیوں نے مل کر وہ کام بانٹ لیا۔بڑے بھائی حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ جماعت کے شفیق باپ بنے مگر باپ آخر ازراہ تربیت کڑی نظر بھی رکھتا ہے۔تا رعب قائم رہے۔اس لئے اس کو ذرا کبھی ریز رو بھی رہنا پڑتا ہے۔مگر ماں بچے کی غلطیوں پر پردے بھی ڈالتی ہے۔چھپ چھپ کر سمجھاتی ہے۔باپ کی ناراضگی کا خوف دلاتی ہے۔مارتی ہے تو فوراً سینہ سے لگا کر پیار کرتی اور پیار سے کہتی ہے کہ دیکھو تمہارے بھلے کے لئے تو کہتی ہوں کہ اگر ابا تمہارے دیکھیں تو کیا کہیں۔غرض یہ ماں کا پیار سارے خاندان ساری جماعت کیلئے ایک قدرتی سمجھوتہ کے طور پر منجھلے بھائی صاحب کے سپرد رہا اور ہمیشہ نبھاہا۔خوب نبھایا۔وہ نیک نیت، خوش خلق اور منکسر المزاج تھے۔خود بہت حساس مگر دوسرے کے احساسات کا بھی بہت خیال رکھنے والے، خدا اور رسول کے عشق میں سرشار، مگر ہر وقت ڈرنے والے۔ہر وقت فکر تھا کہ گنہگار ہوں۔غریب نواز ، ہمدرد، غرض ایک خوبیوں کا مجموعہ تھا۔ایک نیکیوں کا گلدستہ