حیات بشیر

by Other Authors

Page 474 of 568

حیات بشیر — Page 474

474 پریشان کن اور بہت کٹھن حالات سے حالات سے دوچار ہونا پڑا انہوں نے اس بار عظیم اور مشکلات ومصائب کو بڑی سنجیدگی و وقار کامل وفاداری، اور بڑی جواں ہمتی اور مستقل مزاجی سے اٹھایا۔ہر لمحہ انہوں نے اپنے وجود کے ذرہ ذرہ کو خدا تعالیٰ اور اس کے دین کی راہ میں وقف کئے رکھا۔اور اس راہ میں کئی موتیں اپنے پر وارد کیں۔ان کی جسمانی وفات ان کے لئے اس کمر جھکا دینے والے بوجھ سے جسے انہوں نے شکایت کا ایک لفظ بھی زبان پر لائے بغیر بطیب خاطر دن اور رات اٹھائے رکھا خوش آئند رہائی کا رجہ رکھتی ہے خواہ دل نے کتنے ہی آنسو بہائے ہوں۔اور وہ کتنا ہی خون ہو ہو گیا ہو۔ان کی زبان سے اپنے خالق و مالک کے لئے محبت ،اطاعت ، وفاداری تسلیم ورضا اور تحمید و تمجید کے الفاظ کے سوا کبھی کوئی لفظ نہیں نکلا۔وہ ہم سب کے لئے ایک الشان اور درخشندہ و تابندہ اسوہ تھے۔“ وو ” میرے لئے یہ امر قدرے اطمینان کا باعث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اور میرے بھائی بہنوں کو بھی اپنے اپنے رنگ میں اباجان کی خدمت کی توفیق بخشی۔میری کسی خدمت کی توفیق میں سب سے بڑا حصہ میری بیوی امتہ القیوم بیگم دختر حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ہے جنہوں نے ہر موقع پر خود تکلیف اٹھا کر ابا جان اور والدہ کی بڑے شوق اور محبت سے خدمت کی میرا دل ان کے لئے شکر کے جذبات سے لبریز ہے۔اباجان کی ایک امانت ہمارے سپرد ہے۔دوست جہاں ہم سب کے لئے اور دینی و دنیاوی امور کے لئے دعا فرماویں۔وہاں یہ بھی دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدہ محترمہ کی ایسی خدمت کی توفیق بخشے کہ وہ ہماری کسی حرکت سے غمگین نہ ہوں اور ابا جان کی بے مثال تیمارداری کی کمی کو کسی رنگ میں محسوس نہ کریں۔خاکسار مرزا مظفر احمد کا حضرت اقدس امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے تعزیت کے خطوط کے جواب میں مندرجہ ذیل چٹھی احباب کو بھجوائی گئی۔