حیات بشیر

by Other Authors

Page 473 of 568

حیات بشیر — Page 473

473 کو محبت اور اخوت کے اس رشتہ میں منسلک کر دیا ہے کہ دوسرے کی تکلیف اپنی اور بعض حالات میں اپنے سے بڑھ کر محسوس ہوتی محترم چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا تعزیتی خط فرماتے ہیں۔ہے۔" زم جناب چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے تعزیتی خط کا ذکر کرتے ہوئے آپ ان تعزیت کے خطوط میں اباجان کی وفات سے ایک روز بعد کا امریکہ سے لکھا ہوا خط مکرم محترم چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی طرف سے بھی ملا۔جناب چودھری صاحب نے اپنے اس خط میں اباجان کی سیرت کا بڑا صحیح نقشہ کھینچا ہے اس لئے اس خط سے ایک اقتباس درج کرتا ہوں۔" میں ابھی تک اس قابل نہیں ہوا کہ اپنے خیالات کو پورے طور پر مجتمع کر کے آپ کو ایک مربوط خط لکھ سکوں۔آپ کے واجب الاحترام والد کی وفات نے میری زندگی میں خلا پیدا کر دیا ہے جیسا کہ آپ کو بخوبی علم ہے۔ہماری بہت قریبی اور گہری اور جہاں تک ان کا تعلق ہے ان کی جانب سے بہت ہی مشفقانہ وابستگی ۵۳ سال سے بھی زائد عرصہ تک جاری رہی۔اس تمام عرصہ میں کبھی اختلاف یا غلط فہمی کا شائبہ بھی پیدا نہیں ہوا۔فیض کا چشمہ ایک ہی سمت بہتا رہا۔یعنی ان کی جانب سے میری طرف ان کی محبت اور نوازشات کی کوئی انتہا نہ تھی۔ان محبتوں اور شفقتوں کا سلسلہ اختتام پذیر ہوا تو صرف ان کی وفات پر ان کے لئے اور ان کے عزیزوں کے لئے مخلصانہ دعاؤں کے سوا میں ان کی کوئی خدمت بجا نہ لا سکتا تھا اور کسی لحاظ سے بھی ان کی پیہم نوازشات کا بدلہ نہ اتار سکتا تھا۔میں اس خیال سے کس قدر تسلی پاتا ہوں۔کہ مخلصانہ دعاؤں میں مجھ سے کبھی کوتاہی سرزرد نہیں ہوئی۔اب وہ رحلت فرما گئے ہیں۔اور انہوں نے اپنے پیچھے جو خلا چھوڑا ہے اس سے آپ سب کی زندگیاں اور میری زندگی ہی متاثر نہیں ہوئی ہے۔بلکہ پاکستان میں بھی اور پاکستان سے باہر بھی ہر جگہ جماعت پر اس کا اثر پڑا ہے۔حضرت صاحب کی علالت ان کے لئے مسلسل دکھ اور ملال کا موجب رہی۔اس کی وجہ سے ان کے کندھوں پر عظیم ذمہ داریوں کا بوجھ آن پڑا اور بسا اوقات انہیں