حیات بشیر

by Other Authors

Page 472 of 568

حیات بشیر — Page 472

472 نے سنایا کہ وہ کراچی سے جنازہ میں شمولیت کے لئے آرہے تھے کہ ایک دیہاتی ملتان سے ہوائی جہاز پر سوار ہوا۔اور ان کے ساتھ لائل پور اترا لائکپور اس نے دریافت کیا کہ آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں جب انہوں نے کہا کہ ربوہ تو اس نے درخواست کی کہ وہ اس کو بھی ٹیکسی میں ساتھ لیتے جاویں۔ان کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ مجھے اپنے گاؤں میں حضرت میاں صاحب کی وفات کی خبر ملی تو میں اسی وقت ریلوے اسٹیشن گیا تو گاڑی نکل چکی تھی بسوں کے اڈہ پر گیا۔لیکن وہاں سے بھی پہنچنے کی کوئی صورت نہ بنتی تھی۔میرے اس اضطراب پر کسی نے کہا کہ ہوائی جہاز پر جاؤ تو شاید پہنچ سکو سو یہ بے چارہ ہوائی اڈہ پر پہنچا اور وہاں سے ٹکٹ خرید کر لائکپور آیا۔شیخ صاحب کہتے تھے کہ اس کی حالت یہ تھی کہ شاید وہ اپنی کسی دنیوی ضرورت کے لئے اتنی رقم کبھی خرچ کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا۔جو اس نے تکلیف اٹھا کر جنازہ میں شمولیت کی خاطر برداشت کی اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین۔“ 66 تعزیت کے پیغامات تعزیت کے پیغاموں کا ذکر کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں: تعزیت کے پیغام اور خطوط بھی سینکڑوں کی تعداد میں دنیا بھر سے آچکے ہیں اور ابھی چلے آ رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے جنہوں نے غم میں شریک ہو کر اس کے ہلکا کرنے کی کوشش کی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسے اپنا سمجھا۔بعض دوست یہ کہہ رہے تھے کہ ہم تعزیت کس سے کرنے جائیں ہم تو کہتے ہیں لوگ ہم سے آکر تعزیت کریں۔ہو متعدد احباب نے اپنے خطوط میں لکھا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم آج یتیم : گئے بعض دوستوں نے یہاں تک لکھا کہ ہمیں حضرت میاں صاحب کی وفات کا صدمہ اپنے والد کی وفات کے صدمہ سے زیادہ ہوا ہے اور ایک مخلص دوست نے مجھے بتایا کہ بیماری کی شدت کے ایام میں وہ خدا کے حضور یہ دعا کرتے رہے کہ اے اللہ ! تو میری زندگی بھی حضرت میاں صاحب کو دے دے کیونکہ میری موت سے تو ایک خاندان پر مصیبت آتی ہے۔لیکن حضرت میاں صاحب کی وفات جماعت اور عالم اسلام کے لئے صدمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہم سب۔