حیات بشیر

by Other Authors

Page 471 of 568

حیات بشیر — Page 471

471 کے ہم نے تیری تقدیر کو بانشراح صدر قبول کیا ہے۔لیکن میرے مولا تیرے در کا سوالی تجھ سے ایک بھیک مانگتا ہے۔میرے ابا کا خا کی جسم تو ہم سے جدا ہو گیا۔انکی برکات ہمارے ساتھ رہنے دیجیو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم سے وہ کام لے جس سے تو راضی ہو جائے۔اور جو ہمارے باپ کی روح کیلئے تسکین کا باعث ہو۔“ شکریہ احباب ہر شکریہ احباب کے ضمن میں حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف لکھتے ہیں: بالآخر میں ان تمام احباب کا ممنون ہوں جنہوں نے ابا جان کے لئے اور ہمارے لئے دعائیں کیں اور کر رہے ہیں۔اور پھر آپکے ان معالجوں کا جنہوں نے آپکی بیماری میں کمال محبت اور محنت سے علاج کی تکلیف اٹھائی ان ڈاکٹروں میں ربوہ میں عزیزم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب اور لاہور میں ڈاکٹر محمد یعقوب صاحب بالخصوص قابل ذکر ہیں۔مکرمی ڈاکٹر محمد یعقوب صاحب نے اس آخری بیماری میں اور اس سے پہلے بھی بیماری کے موقع پر بے حد محبت اور اخلاص سے علاج کیا۔لاہور میں صبح اور شام کا آنا تو معمول تھا ہی اسکے علاوہ بھی ضرورت کے موقع پر بلا توقف تشریف لاتے تھے۔اور دیر تک پاس بیٹھے رہتے تھے۔اسی طرح ڈاکٹر مسعود احمد صاحب اور کرنل عطاء اللہ صاحب نے بھی بڑے اخلاص اور محبت سے علاج اور تیمارداری میں حصہ لیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے اور جو آرام اور راحت انہوں نے میرے باپ کو پہنچانے کی کوشش کی ہے وہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو اور ان کی اولادوں کو پہنچائے۔خادموں میں سے سب سے اول بشیر احمد نے خدمت کی نہ صرف بیماری میں بلکہ گذشتہ قریبا ہمیں برس سے اس نے حد درجہ وفاداری اور جاں شاری سے خدمت کی ہے اور ابا جان بھی اسکا خاص خیال رکھتے تھے۔اور اس سے بچوں کی طرح محبت کرتے تھے۔“ جنازہ میں شامل ہونے والوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ صاحب لکھتے ہیں: جنازہ کے موقع پر بھی احباب جماعت کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور ایک اندازہ کے مطابق ۷۶ ہزار لوگ باہر سے ربوہ تشریف لائے۔بعض ان میں دور دور کے مقامات سے باوجود یکہ وقت بہت کم ملا۔تکلیف اٹھا کر آئے مجھے شیخ فیض محمد صاحب